دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jame Ul Ahadees Jild 3 | جامع الاحدیث جلد سوم

book_icon
جامع الاحدیث جلد سوم

          السنن لابن ماجہ ،                  باب التغلیظ فی الربا،                       ۱/۱۶۵

          الجامع الصغیر للسیوطی،         ۲/۴۴۶

          السنن لابی داؤد،                   باب فی اکل الربوا،                                    ۲/۴۷۳

۱۶۸۶۔          الصحیح لمسلم ،                  باب الربوا، ۲/۲۷

          مجمع الزوائد للہیثمی، ۴/۱۱۸      ٭     اتحاف السادۃ للزبیدی،          ۵/۴۴۶

          الترغیب و الترہیب للمنذری،    ۱/۵۳۹      ٭     الدر المنثور للسیوطی، ۱/۳۶۷

 علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے، اور اسکے کاتب وگواہ سب پر لعنت فرمائی۔اور

فرمایا:  وہ سب برابرگنہگار ہیں۔                                         فتاوی رضویہ   ۷/۷۵

                           (۳سود کی  مذمت

 ۱۶۸۷۔ عن کعب الأحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: لان ازنی ثلث وثلثین زنیۃ

احب الی من ان آکل درھما  ربا یعلم  اللہ انی اکلتہ من ربا۔

          حضرت کعب احبار  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک مجھے اپنا تینتیس بار زنا کرنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ سود کا ایک درم کھاؤں۔ جسے اللہ عزو جل جانے کہ میں نے سود

 کھایاہے۔

{۱}  امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

        سود جس طرح لینا حرام ہے دینا بھی حرام ہے ۔ مگر شریعت مطہرہ کا قاعدہ  مقررہے  کہ الضرورۃ تبیح المحظورا ت  ، اسی لئے علماء فرماتے ہیں کہ محتاج کوسود ی

قرض لینا جائز ہے ۔ محتاج کے یہ معنی جو واقعی حقیقی ضرورت  قابل قبول شرع رکھتا ہو کہ اسکے بغیر چارہ ہو ، نہ کسی طرح بے سودی روپیہ ملنے کا یارا ۔ ورنہ ہر گز جائز نہ ہوگا ۔ جیسے لوگوں میںرائج ہے کہ اولاد کی شادی کرنی چاہی ۔ سو روپے پاس ہیں ہزار روپے لگانے کو جی چاہا تو سودی نکلوائے ، یا مکان رہنے کوموجود ہے دل پکے محل کو ہوا ۔ سودی قرض لیکر بنایا یادو سو کی تجارت کرتے  ہیں۔ قوت اہل وعیال بقدر کفایت ملتا ہے ۔ نفس نے بڑا سود اگر بننا چاہا ۔ پانچ  چھ سو سودی نکلوا کر لگوادئے یا گھرمیں زیور وغیرہ موجودہے جسے بیچ کر روپیہ      حاصل کر سکتے ہیں۔ نہ بیچا  بلکہ سودی قرض لیا  وعلی ھذا  القیاس ۔ صدہا صورتیں  ہیں کہ یہ ضرورت نھیں ۔ توان میں حکم جواز نہیں ہو سکتا اگرچہ لوگ اپنے زعم میں ضرورت سمجھیں۔ولہذا  قوت اہل وعیال  کیلئے سودی قرض لینے کی اجازت اسی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن