30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوا ن اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے کچھ حضرات عرب کے ایک قبیلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۶۷۸۔ اتحاف السادۃ للزبیدی، ۳/۷۷ ٭ مشکوۃ المصابیح للتبریزی، ۷۹۸۵
السنن للدار قطنی، ۳/۹۵ ٭ لسان المیزان لابن حجر، ۲/۳۱۸
تنزیہ الشریعۃ لابن عراق، ۱/۲۶۱ ٭ تذکرۃ الموضوعات للفتنی، ۸۱
موارد الظمئان للہیثمی، ۱۱۳۱ ٭ الدر المنثور للسیوطی، ۴۸
۱۶۷۹۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب الرقی بالقرآن و المعوذات ، ۲/۸۵۴
الصحیح لمسلم ، باب جواز الاجرۃ علی الرقبۃ ، ۲/۲۲۴
المسند لاحمد بن حنبل ، ۳/۴۴ ٭ فتح الباری للعسقلانی، ۱۰/۱۹۸
التفسیر للقرطبی، ۱/۱۱۳ ٭
کے پاس گئے تو انہوںنے انکی مہمان نوازی نہ کی۔ اسی اثنا میں انکے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ۔ توانہوں نے کہا: کیا آپ لوگوں کے درمیان کوئی دوا یا دم کرنے والا ہے ؟ صحابہ کرام نے فرمایا:
چونکہ تم نے ہماری ضیافت نہ کی لہذا ہم بغیر اجرت تمہارے ساتھ کچھ نہیں کریںگے ۔ انہوں نے بکریاں دینا منظور کیا ۔ چنانچہ ایک صحابی نے سورۂ فاتحہ پڑھی اور لعاب جمع کرکے اس جگہ پر
تھوک دیا ۔ اسکی تکلیف دورہوگئی۔ وہ بکریاں لیکر آئے تو صحابہ کرام نے فرمایا: ہم جب تک اس سلسلہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے معلومات نہیں حاصل کر لیںگے بکریاں
نہیں لیںگے۔ حضور نے یہ سنکر تبسم فرماتے ہوئے ارشادفرمایا:خیر بکریاں لے لو اور ان میں
میرا حصہ بھی ہے۔ فتاوی رضویہ ۸/۱۸۲
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اس حدیث سے محض تعویذ اور دم کرنے کیلئے قرآن پڑھنے پر اجرت لینے کا جواز معلوم ہوا مطلق تلاوت او رتعلیم قرآن پر اجرت کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔ لہذ ا یہ حدیث امام اعظم ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مسلک کے خلاف ہرگز نہیں کہ امام اعظم تلاوت وتعلیم قرآن پر اجرت کو ناجائز
قرار دیتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہے ۔
تعلمو االقرآن ولاتاکلوا بہ ، یعنی تعلیم قرآن کی کمائی نہ کھاؤ۔ عمدۃ القاری۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع