30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۶۷۱۔ عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: قال رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لاَ یَحِلُّ سَلْفٌ وَبَیْعٌ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: قرض کی شرط پر کسی چیز کی بیع حلال نہیں ۔ ۱۲م
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
قرض لینے والا بضرورت قرض ، قرض کے ساتھ کم مالیت کی شیٔ زیادہ قیمت کو اگر اس طرح خریدے کہ وہ بیع اس قرض پر مشرو ط ہو تو بالا تفاق حرام ہے ۔ او راگر عقد قرض پہلے ہو او ریہ بیع اس میں نصا یا دلالۃ مشروط نہ ہو تو اس میں اختلاف ہے۔ بعض علماء اجازت دیتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۶۶۹۔ المعجم ا لکبیر للطبرانی، ۱۸/۲۲۲ ٭ مجمع الزوائد للہیثمی، ۴/۱۱۰
کنز العمال للمتقی، ۵۴۴۳، ۳/۵۳ ٭ الجامع الصغیر للسیوطی، ۲/۴۹۳
۱۶۷۰۔ کنز العمال للمتقی، ۵۴۴۲، ۲/۵۱ ٭ الجامع الصغیر للسیوطی، ۲/۵۲۰
کشف الخفاء للعجلونی، ۲/۳۲۷ ٭
۱۶۷۱۔ السنن لابی داؤد ، باب فی الرجل بیع ما لیس عندہ ، ۲/۴۹۵
کہ یہ بیع بشرط قرض نہیں۔ بلکہ قرض بشرط بیع ہے۔ او رقرض شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا ۔ اور راجح یہ ہے کہ یہ بھی ممنوع ہے کہ اگرچہ شرط مفسد قرض نہیں مگر یہ وہ قرض ہے جس کے ذریعہ سے ایک منفعت قرض دینے والے نے حاصل کی او ریہ ناجائز ہے ۔ لہذ ا ان صورتوں کو ترک کیا جائے ۔ او رقرض کا نام ہی نہ لیا جائے ۔ بلکہ خالص بیع ایک وعدہ معینہ پر ہو ۔ اب نوٹ کی بیع روپئے کے عوض جائز ہوگی اگرچہ دس کا نوٹ سوکو بیچے ۔ اور دونوں صورتوں میں فرق وہی ہے جو قرآن عظیم نے فرمایا:واحل اللہ البیع وحرم الربوا ہ مگر چاندی سونے کی بیع اب بھی جائز نہ ہوگی او رنوٹ کی جائز ہوگی ۔ قال البنی صلی اللہ تعالیٰ علہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم ۔ او ریہ زیادہ قیمت دینا اگرچہ بحالت قرض ہے لیکن بوجہ بیع جائز ہے۔
اگرچہ اولی نہیں ۔ درمختار میں ہے شراء شیٔ بثمن غال لحاجۃ القرض ، یجوز و یکرہ
واللہ تعالیٰ اعلم۔ فتاوی رضویہ ۷/۷۴
(۶) روپے کی بیع تفاضل کے ساتھ جائز ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع