30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{۵} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
زوجۂ مفقود کیلئے چار برس کی مہلت کہ حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب ہے جمہور ائمہ کرام اسکے خلاف پر ہیں ادھر قرآن عظیم صاف صاف ارشاد فرمارہا ہے: والمحصنات من النسا ء تم پر حرام ہیں وہ عورتیں جو دوسروں کے نکاح میں ہیں۔ اس عورت کا نکاح مفقود میں ہونا تو یقینا معلوم ہے اور چار برس کے بعد اسکی موت مشکوک وموہوم ۔کیا آدمی اتنی مدت میں خواہ مخواہ مر ہی جاتا ہے یا اسکی مرگ پر ظن غلبہ کرتاہے۔ یہاں تک کہ خود علمائے مالکیہ رحمہم اللہ تعالیٰ اقرار فرماتے ہیں اس چار سال کی تقدیر پر سوائے تقلید امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں نہ ہرگز نظر فقہی اسکی مساعد ۔ کما نقل العلامۃ الزرقانی فی شرح المؤطا عن الکافی انہا مسئلۃ قلدنا فیہا عمر لیست مسئلۃ النظر ۔ تمام ائمہ کا اجماع کہ شک سے یقین زائل نہیں ہوتا تو نص قطعی وقضیہ یقینی کے خلاف ایک موہوم بات پر کیوںکر زن زید نکاح عمر میں آسکتی ہے امیر المؤمنین مولی المسلمین حضرت سید نا علی مرتضی، وکنیف العلم سید الفقہاء سند الائمہ حضرت عبد اللہ بن مسعو د رضی اللہ تعالیٰ عنہماکہ پہلے قائل چار سال کے تھے ۔ بلکہ وہی پہلے قائل چار سال کے ہوئے ۔ بعد ہ قول حضرت مولی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی طرف رجوع فرمایا۔ کما فی الفتح ۔ تو وہ
دلیل کہ مالکیہ کو اس قول پر حاصل تھی یعنی تقلید فاروقی وہ بھی نہ رہی ۔ اسی طرح امام شا فعی رضی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۶۴۵۔ السنن للدار قطنی، ۲/۴۲۱ ٭ کنز العمال للمتقی، ۴۴۷۶، ۲/۴۵۱
جمع الجوامع للسیوطی، ۴۴۰۳، ٭ نصب الرایۃ للزیلعی، ۳/۴۷۳
اللہ تعالیٰ عنہ کہ ارشد تلامذۂ امام مالک ہیں پہلے قول امام مالک کے قائل تھے پھر ہمارے ہی قول
کی طرف رجوع لائے۔ اور وہی انکے مذہب میںراجح قرار پایا۔
بلکہ جمہور ائمہ شافعیہ رحمہم اللہ تعالیٰ تو یہاںتک اس سے اختلاف رکھتے ہیں کہ
قاضی مہلت چار سالہ کے بعد تفریق کردے تو اسکی قضا تو ڑدی جائے ۔ کہ اس نے دلیل صریح کے خلاف حکم کیا ۔ پھر معاملہ بھی کونسا معاملۂ فروج ۔ جسمیں شریعت مطہرہ کو سخت احتیاط ملحوظ ۔ یہاںتک کہ ا صل اشیاء میں اباحت وحلت ہے۔ فروج میں اصل حرمت ٹھہری ۔تو ایسے امر میں
ایسے قول کی طرف اپنا ایسا قوی ومدلل مذہب چھوڑکر جانا کیسی کھلی بے احتیاطی ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع