30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طلاق دے سکتے ہیں۔پھر فرمایا: یہ ہی تو وہ طلاق ہے جو عدت شمار کرنے کیلئے موزوں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا: چنانچہ
حضرت عبد اللہ بن عمر نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے
رجعت کر لی اور حالت حیض کی طلاق بھی شمار کی گئی۔ فتاوی رضویہ ۵/۷۸۳
۱۶۴۰۔ عن الزہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال عبد اللہ بن عمررضی اللہ
تعالیٰ عنہما: فراجعتہا وحسبت لہا التطلیقۃ التی طلقتہا۔
حضرت امام زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے فرمایا: میںنے رجعت کرلی او روہ طلاق شمار کی گئی جو حالت حیض میں دی تھی۔ ۱۲م
۱۶۴۱۔ عن اِبن سیر ین رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: مکثت عشرین سنۃ یحدثنی من لا اتھم ان ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما طلق امرأتہ ثلاثا وہی حائض، فامر ان یراجعہا، فجعلت لا اتھمھم ولا اعرف الحدیث حتی لقیت ابا خلاب یونس بن جبیر الباہلی وکان ذاثبت، فحدثنی انہ سأل ابن عمر فحدثہ انہ طلق امرأتہ
تطلیقۃ وہی حائض، فامر ان یراجعہا، قال: قلت:افحسب علیہ ؟قال: فمہ، او ان
عجز واستحمق۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۶۴۰۔ الصحیح لمسلم ، باب تحریم طلاق الحائض ، ۱/۴۷۶
۱۶۴۱۔ الصحیح لمسلم ، باب تحریم طلاق الحائض ، ۱/۴۷۷
حضر ت انس بن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں بیس سال تک ٹھہرا ، مجھ سے ایسے محدث نے حدیث بیان فرمائی جنکو میں جھوٹ سے متہم نہیں جانتا ۔ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں تین طلاقیں دے ڈالیں۔ حضورکی طرف سے حکم ملا کہ وہ رجعت کر یں۔ اب میں اس حال میں تھا کہ نہ تو انکو جھوٹ سے متہم جانتا تھا اور نہ ہی کسی دوسرے محدث سے اس کا سراغ پاتا تھا۔ یہاں تک کہ میری ملاقات ابو خلاب یونس بن جبیر باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہو گئی جو نہایت ثقہ راوی تھے۔ چنانچہ انہوںنے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ انہوںنے خود حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے یہ واقعہ معلوم کیا تو انہوںنے بتایا: میںنے اپنی بیوی کو صرف ایک طلاق دی تھی جبکہ وہ حالت حیض میںتھیں۔ حضور نے حکم فرمایا کہ رجعت کریں۔ ابن سیرین کہتے ہیں کہ میںنے کہا:کیا حضرت ابن عمر کے حق میں وہ طلاق شمار کی گئی؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع