30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لْیَدَعُھَاحَتّی تَطْھُرَ ، ثُمَّ تَحِیْضُ حَیْضَۃً اُخْرٰی، فَاِذَا طَھَرَتْ فَلْیُطَلِّقْہَا قَبْلَ أنْ یُجَامِعَہَا أوْیُمْسِکَہَا، فَاِنَّہَا الْعِدَّۃُ الَّتِیْ أمَرَ اللّٰہُ أنْ یُّطَلِّقَ بِھَاالنِّسَآئَ، قال عبیداللہ:قلت:لنافع، ما صنعت التطلیقۃ؟
قال:واحدۃ اعتدبہا۔
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میںنے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔ حضور کی خدمت میںیہ واقعہ حضرت عمر نے عرض کیا: حضور نے فرمایا:انکوحکم دو کہ رجعت کریں ۔ پھر اس سے علیحدہ رہیں یہاںتک کہ پاک ہو جائے۔ پھر دوبارہ حیض آکر جب پاک ہو جائے تو مجامعت سے پہلے یا تو طلاق دے دیں یا بیوی بناکررکھیں۔ یہ ہی وہ عدت ہے جسکا حکم اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں۔میںنے حضرت نافع سے پوچھا کہ ا س طلاق کا کیاحکم رہا جو حالت حیض میں دی گئی تھی۔فرمایا: اسکو ایک طلاق شمار
کیاگیا۔۱۲م
۱۶۳۹۔عن سالم بن عبدا للہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: طلقت امرأتی وہی حائض ، فذکر ذلک عمر للنبی صلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۶۳۷۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب اذا طلق الحائض یعتد، ۲/۷۹۰
المسند لاحمد بن حنبل، ۲/۲۶ ٭ المعجم الکبیر للطبرانی، ۱۲/۳۴۶
۱۶۳۸۔ الصحیح لمسلم ، باب تحریم طلاق الحائض، ۱/۴۷۶
۱۶۳۹۔ الصحیح لمسلم ، باب تحریم طلاق الحائض ، ۱/۴۷۶
اللہ تعالیٰ علیہ سلم فتغیظ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ثم قال: مُرْہُ فَلْیُراجِعْہَا حَتّی تَحِیْضَ حَیْضَۃً مُّسْتَقْبِلَۃً سِوٰی حَیْضَتِہَا ألَّتِی طَلَّقَہَا فِیْہَا، فَاِنْ بَدَالَہٗ أنْ یُّطَلِّقُہَافَلْیُطَلِّقُہَا طَاھِرًا مِنْ حَیْضَتِہَا قَبْلَ أنْ یَّمُسَّہَا، قال: فَذٰلِکَ الطَّلَاقُ لِلْعِدَّۃِکَمَا أمَرَ اللّٰہُ ، وکان عبد اللہ طلقہا تطلیقۃ فحسبت من طلاقہا، وراجعہا
عبد اللہ کماامرہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔۔
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی ۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واقعہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: حضور یہ سنکر غضبناک ہوگئے او رفرمایا: انہیں حکم دو کہ رجعت کرلیں۔ پھر اسکے بعد ایک حیض اورآجائے اور پھر طہر آئے تو بیوی کے پاس جانے سے پہلے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع