30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت عطاء خراسانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرشتہ جاکر اسکے مدفن کی مٹی لا کر اس نطفہ پر چھڑکتا ہے ۔ تو آدمی اس مٹی اور اس بوند سے بنتا ہے۔ اور یہ ہے اللہ تبار ک
وتعالیٰ کا ارشاد کہ : ’’ ہم نے تمہیں زمین ہی سے بنایا اور اسی میں پھر تمہیں لے جائینگے ۔
فتاوی افریقہ ص ۱۰۰
(۱۹) حضرت فاطمہ کا وصال اور کفن دفن میں جلدی
۱۰۶۰۔عن عبداللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان فاطمۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لما حضرتہا الوفاۃ امرت علیا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فوضع لہا غسلا فاغتسلت و تطہرت ودعت ثیاب اکفانہا فلبستہا ومست من الحنوط ثم امرت علیا ان لا تکشف اذا قضت وان تدرج کما ہی فی ثیا بہا ، قال : فقلت لہ: ہل علمت احدا فعل ذلک ؟ قال: نعم، کثیر بن عباس ، وکتب فی اطراف اکفانہ ، شہد کثیر بن عباس ، ان لا الہ الا اللہ ۔
حضرت عبداللہ بن محمد بن عقیل بن طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۰۵۸
۱۰۵۹۔ الترغیب و الترہب للمنذری،
۱۰۶۰۔ المصنف لعبد الرزاق، کتاب الجنائز ، ۳/۴۱۱
سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انتقال کے قریب امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے اپنے غسل کے لئے پانی رکھوایا پھر نہائیں اور کفن منگا کر پہنا اور حنوط کی خوشبو لگائی ، پھر حضرت مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو وصیت فرمائی کہ میرے انتقال کے بعد کوئی مجھے نہ کھولے اور اسی کفن میں دفنا دی جائیں ۔ میں نے پوچھا کسی اور نے بھی ایسا کیا ہے؟ کہا: ہاں،حضرت کثیر بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ۔اور انہوں نے اپنے کفن کے
کناروں پر لکھا تھا کثیر بن عباس گواہی دیتا ہے ، لا الہ الا اللہ ۔
فتاوی رضویہ ۴/ ۱۲۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع