30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۔ طلاق کی شرعی حیثیت
(۱) مباح چیزوں میں مبغوض تر طلاق ہے
۱۶۱۸۔عن عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: قال رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: أبْغَضُ الْحَلاَلِ اِلیَ اللّٰہِ تَعَالیٰ ألطَّلاَقُ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں زیادہ ناپسند طلاق ہے۔
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
بلاوجہ شرعی طلاق دینا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند و مبغوض ومکرو ہ ہے ۔ مگر شوہر اسکا اختیار ضرور رکھتا ہے ۔ اگر دیگا توہو جائیگی ۔ پھر اگر زوجہ سے ابھی خلوت یعنی بغیرکسی مانع کے تنہا یکجائی نہ کی ۔ یا زوجہ کہ دس سالہ ہے قابلیت جماع اصلا نہ رکھتی ہو جب تو نصف مہر دینا ہوگا اگر بندھا ہو ۔ اور اگر کچھ نہ بندھا تھا تو ایک پور اجوڑا جس میں دو پٹہ پا جامہ اورعورتوںکے چھوٹے کپڑے اورجوتا سب کچھ ہو ۔ اور مرد وعورت دونوں کے لحاظ سے عمدہ نفیس یا کم درجہ ، یا متوسط ہو ، دینا آویگا ۔ جسکی قیمت نہ پانچ درہم سے کم ہو نہ عور ت کے نصف مہر سے زیادہ ہو ۔
اگر مرد وعورت دونوں غنی ہیں تو نفیس ۔
او ردونوں فقیر تو ادنی ۔ اور ایک فقیر دوسرا غنی تو متوسط اور اگر دس سالہ لڑکی قابل جماع
ہے اور خلوت ہو چکی تو پورا مہر لازم ہوگا ۔ فتاوی رضویہ ۵/۶۰۲
فتاوی رضویہ ۵/۷
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع