30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قسم کے پاک صاف مضمون ہوں تو اصل حکم میں اس قدر کی رخصت ہے مگر حال زمانہ کے مناسب یہ ہے کہ مطلق بندش کی جائے ۔ کہ جہال حال خصوصاًزنان زماں سے کسی طرح امید نہیں کہ انہیں جو حد باندھ کر اجازت دی جائیگی ۔ اسکے پابند رہیں گی۔ او رحدمکروہ تک تجاوز نہ کریںگے ۔ لہذ ا سرے سے فتنہ کا درواز ہ ہی بند کیا جائے۔ نہ انگلی ٹکنے کی جگہ پائیں گے نہ آگے پاؤں پھیلائیں گے ۔ خصوصا بازار ی فاجرہ فاحشہ عورتیں رنڈیوں ڈومنیوں کو ہر گز ہرگز قدم نہ رکھنے دیں،کہ ان سے حد شرعی کی پابندیاںمحال عادی ہے،وہ بے حیائیوں فحش سرائیوں کی خوگر ہیں ۔ منع کرتے کرتے اپنا کام کر گزریں گی ۔ بلکہ شریف زادیوں کا ان آوارہ بدوضعوں کے سامنے آنا ہی سخت بے ہودہ وبیجا ہے ۔ صحبت بد زہر قاتل ہے اور
عورتیں نازک شیشیاں جنکے ٹوٹنے کی ادنی ٹھیس بہت ہوتی ہے ۔
فتاوی رضویہ ۹/۷۸
۱۶۰۷۔عن الربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت: جاء النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فدخل حین بنی علی ، فجلس علی فراشی کمجلسک منی ، فجعلت جویریات لنا یضربن بالدف ، ویندبن من قتل من آبائی یوم بدر۔
حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب میری
رخصتی ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ۔ اور اس طرح میرے بستر پر آکر جلوہ افروز ہوئے ۔ جیسے آپ(خالد بن ذکوان راوی حدیث) بیٹھے ہیں پس کچھ لڑکیاں دف بجا کر اپنے ان بزرگوں کے کارنامے بیان کررہی تھیں جو غزوۂ بدر میںجام
شہادت نوش فرماگئے تھے۔
۱۶۰۸۔عن اُم المؤمنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہاانہازفّت امرأۃ الی رجل من الانصا ر ،فقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :یَا عَائِشَۃُ ! مَا کَانَ
مَعَکُمْ لَھْوٌ ، فَاِنَّ الْأنْصَارَ یُعْجَبُہُمُ اللَّہْوُ۔
ام المؤمنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک عورت کا نکاح کسی انصاری مرد کے ساتھ کردیا: حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ!
تمہارے پاس بچیوں کیلئے کوئی گانے بجانے کی چیز نہیں کہ انصار کو یہ پسند ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع