30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعالیٰ علیہ وسلم ذلک ، قالوا: یا رسول اللہ ! ھذین فحلین لا یعقلان سجدا لک ،أفلا نسجد لک ؟ قال: لاَ آمُرُ أحَدًا أنْ یَّسْجُدَ لِأحَدٍ ، وَلَوْ أمَرْتُ أحَدًا
یَسْجُدُ لِأحَدٍ لَأمَرْتُ الْمَرْأۃَ أنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا۔
حضر ت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری شخص کے دو اونٹ مست ہو گئے ، انہوںنے دونو ں کو باغ میں بند کر دیا اور حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں دعا کیلئے حاضر آئے۔ حضور ا سوقت چند انصار کرام کے سا تھ تشریف فرماتھے ۔ عرض کیا : یا نبی اللہ! میں ایک ضرورت کے تحت حاضر آیا ہوں ۔ میرے دو اونٹ مست ہو گئے ہیں ۔میں نے دونو ں کو باغٖ میں بند کردیا ہے ۔ میری خواہش ہے کہ حضو ر دعا فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ انکو میرے تابع بنادے ۔ حضور نے صحابہ کرام سے فرمایا: ہمارے ساتھ چلو! حضور دروازے کے پاس تشریف لائے ۔ اور فرمایا: دروازہ کھولو ! وہ صاحب حضور کے بارے میں ڈرے کہ کہیں کوئی تکلیف پہونچائیں ۔ فرمایا: کھولو! دروازہ کھول دیا گیا ۔ دیکھا کہ ایک اونٹ تو دروازہ کے قریب ہی موجو د ہے ۔ جب اس نے حضور کو دیکھا تو فورا سجدہ کیا ۔ حضور نے فرمایا: کوئی چیز لاؤ جس سے میں اس کا سر باندھو ں اور تمہارے قبضہ میں دیدوں ۔ لہذا ایک مہار لائی گئی ، حضور نے اسکا سر باندھا او رحوالہ کردیا ۔ پھر باغ کے دوسرے کنارے پر دوسرا ملا اس نے بھی ایسا کیا ۔ حضور نے اسکے لئے بھی ایسا ہی کیا اور مالک کے حوالہ کردیا ۔ پھر ان سے فرمایا:تمہاری تابعداری میں رہیںگے اور بے قابو نہیں ہو نگے ۔ صحابہ کرام نے جب یہ دیکھا تو عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ دونو ں بے عقل اونٹ آپکو سجدہ کرتے ہیں ۔ تو کیا ہمیں اجازت نہیں کہ ہم حضور کو سجدہ کریں ؟ فرمایا: میں کسی کو کسی کے سجدہ کی اجازت نہیں دیتا ۔ اگر کسی مخلوق کے
سجدہ کا حکم دیتا تو عور ت کو حکم دیتاکہ وہ شوہر کو سجدہ کرے ۔ ۱۲م
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اس حدیث میں پہلی حدیث کی طرح دو اونٹو ں کا مست ہو نا ہے ۔ وہ سفر کا واقعہ تھا ۔ اور یہاں انکے مالک انصاری خود دعا کرانے آئے ۔ تغایر سیاق دلیل ہے کہ جداواقعہ ہے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم ۔ فتاوی رضویہ حصہ دوم ۹/۲۱۹
۱۵۶۴۔عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: خرجت مع رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی سفر وکان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا أراد البراز تباعد حتی لا یراہ أحد ، فنزلنا منزلا بفلات من
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع