30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۰۴۴۔اتحاف ۱۰۴۴۔ اتحاف السادۃ للزبیدی، ۰ ۱/۲۹۹ ٭ الدرا لمنثور للسیوطی، ۴/۸۲
۱۰۴۵۔ السنن لابی داؤد ، کتاب الجنائز ، باب الاستعار عند القبر للمیت الخ، ۲/۴۵۹
المستدرک للحاکم، کتاب الجنائز، ۱/۳۷۰
الجامع الصغیر للسیوطی، ۲/۴۱۹
سے سوال ہوگا ۔
{۴} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
ان حدیثوں سے ثابت کہ دفن کے بعد دعا سنت ہے ۔ امام محمد بن علی حکیم ترمذی قدس سرہ الشریف دعا بعد دفن کی حکمت میں فرماتے ہیں : نماز جنازہ باجماعت مسلمین ایک لشکر تھا کہ آستانۂ شاہی پر میت کی شفاعت اور عذر خواہی کے لئے حاضر ہوا اور اب قبر پر کھڑے ہو کر دعا، یہ اس لشکر کی مدد ہے کہ یہ وقت میت کی مشغولی کا ہے کہ اس نئی جگہ کا ہول اور نکیرین کا سوال پیش آنے والا ہے ۔اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہاں استحباب دعا کا، عالم میں کوئی عالم
منکر ہو ۔ امام آجری فرماتے ہیں: مستحب ہے کہ دفن کے بعد کچھ دیر کھڑے رہیں اور میت کے
لئے دعا کریں ۔
اسی طرح اذکار امام نودی وجوہرۂ نیرہ ودر مختار وفتاوی عالمگیر ی وغیرہا اسفار میں ہے۔طرفہ یہ کہ امام ثانی منکرین یعنی مولوی اسحاق صاحب دہلوی نے مأۃ مسائل میں اسی
سوال کے جواب میں کہ بعد دفن قبر پر اذان کیسی ہے ۔
فتح القدیر و بحرالرائق ونہرالفائق وفتاوی عالمگیر یہ سے نقل کیا کہ قبر کے پاس کھڑے ہو کر دعا سنت سے ثابت ہے اور براہ بزرگی اتنا نہ جانا کہ اذان خود دعا بلکہ بہترین دعا سے ہے کہ وہ ذکر الہی ہے اور ہر ذکر الہی دعا تو وہ بھی اسی سنت ثابتہ کی ایک فرد ہوئی پھر سنیت مطلق سے کراہت فرد پر استدلال عجب تماشا ہے ۔ مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاۃ شرح مشکوۃ
میں فرماتے ہیں ۔
کل دعا ء ذکر و کل ذکر دعائ۔
ہر دعا ذکر ہے اور ہر ذکر دعا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع