30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گئی ۔
( ۲) یہ کہ چار سو اسی درہم تھے ۔
(۳) یہ کہ چار سو مثقال چاندی ۔
انکے علاوہ جو اقاویل مجہولہ ہیں کہ پا نسو درم مہر تھا ۔ یا چالیس مثقال سونا ۔ سب
بے اصل ہیں ۔
اب بتوفقیہ تعالیٰ توفیق سنئے !
پہلی دو روایتوں میں وجہ تطبیق ظاہر ہے کہ مہر میں زرہ دی کہ چار سو اسی کو بکی ۔ اب چاہے زرہ کہیئے خواہ اتنے درم ۔ حافظ محب الدین احمد بن عبد اللہ طبری نے دونوں روایات میں اسی طرح توفیق کی ۔ اور روایت ثالثہ سے انکی توفیق یوں ہے کہ حدیث زرہ کو ہمارے علمائے کرام نے مہر معجل پر محمول فرمایا جو وقت زفاف اقدس ادا کیا۔ ملا علی قاری اور محقق علی الاطلاق نے اسی کو بیان فرمایا ۔ کہ اہل عرب کی عادت یہ ہی تھی کہ دخول سے قبل ،کچھ مہر ضرور ادا کیا
کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ ایسی ہی روایت کی بنیاد پر بعض ائمہ کرام کا مسلک یہی ہے کہ مہر معجل
ہونا ضروری ہے ۔
فتاوی رضویہ ۵/ ۴۹۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع