30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُزَوِّجَکَ فَاطِمَۃَ عَلیٰ أرْبَعِ مِأۃِ مِثْقَالٍ فِضَّۃً ،أرْضِیْتَ بِذٰلِکَ ؟ فقال: قد رضیت بذلک ،یارسول اللہ ! فقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : جَمَعَ اللّٰہُ شَمَلَکُمَا وَأعَزَّجَدَّکُمَا وَبَارَکَ عَلَیْکُمَا وَأخْرَجَ مِنْکُمَا کَثِیْرًاطَیِّبًا، قال انس: فواللہ!
لقد اخرج منہما الکثیر الطیب ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں فاطمہ کی شادی علی ابن طالب سے کردوں ۔ لہذا تم سب حضرات گواہ رہو کہ میں نے فاطمہ کو علی کے نکاح میں چارسو مثقال چاندی کے عوض دیا اگر علی اس سے راضی ہوں ۔ پھر حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک طبق کھجوریں منگائیں اور فرمایا : لوٹ لو ۔لہذا ہم سب نے وہ کھجوریں لوٹ لیں ۔اسکے بعد حضرت علی داخل ہوئے تو سرکار مسکرائے اور فرمایا : اے علی ! مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ملا ہے کہ میں فاطمہ کو تمہارے نکاح میں چار سو مثقال چاندی کے عوض دیدوں ، تو کیا تم اس سے راضی ہو ؟ حضرت علی نے عر ض کیا میں راضی ہوں یارسول اللہ ! پھر سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تم دونوںکی چادر کو جمع فرمائے ، تمہارے خاندان کو عزت دے ، تم میں برکت رکھے ، اور تم سے خیر کثیر کو عالم میں پھیلائے ۔ حضرت انس فرماتے ہیں : قسم خدا کی ! سرکار کی یہ دعا ایسی دعا قبول ہوئی کہ دونوں پاک ہستیوں سے اللہ تعالیٰ نے خیر کثیر کو عالم میں خوب
خوب عام فرمایا۔
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
مہر اقدس سیدۃ النساء بتول زہراء صلی اللہ تعالیٰ علی ابیہا الکریم و علیہا وسلم میں روایات بظاہر مختلف ہیں ۔ مگر بتوفیق اللہ تعالیٰ ان سب میں تطبیق بروجہ نفیس و دقیق حاصل ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۵۴۴۔ تنزیہ الشریعۃ لابن عراق، ۱/۴۱۰ ٭ لسان المیزان لابن حجر، ۴/۱۲۶
الموضوعات لابن الجوزی، ۱/۴۱۵ ٭ الفوائد المجموعۃ ، ۳۹۰
مندرجہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس بار ے میں روایات مستندہ معتدبہا تین ہیں ۔
(۱) یہ کہ مہر مبارک درم و دینار نہ تھے بلکہ ایک زرہ کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت امیر المؤمنین مولی المسلمین کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو عطا فرمائی تھی ۔ وہی مہر میں دی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع