30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ہم نے آپ کی صحبت اختیا رکی ہے۔ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ۔ میری امت میں سے وہ عورت جلد جنت میں
پہونچے گی جس کا شوہر میدان جنگ میں شجاعت کے جوہر دیکھا کر شہید ہو ا ہوگا ۔
{۶} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
حضرت سید سعید شہید سیدنا امام حسین صلی اللہ تعالیٰ علی جدہ الکریم و علیہ وبارک وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت رباب بنت امریٔ القیس کہ حضرت علی اصغر و حضرت سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی والدہ ماجدہ ہیں ۔ بعد شہادت امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت شرفائے قریش نے انہیں پیام نکاح دیا ۔ آپ نے فرمایا : میں وہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کسی کو اپنا
خسر بنا ئو ں ۔ جب تک زندہ رہیں نکاح نہ کیا ۔
مرثیہ حضرت امام انام رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں فرماتی ہیں ۔
واللہ لاابتغی صہر بصہرکم ۔ حتی اغیب بین الرمل والطین
خد اکی قسم ! میں تمہارے رشتہ کے بعد کسی سے رشتہ نہ چاہوںگی ۔ یہاں تک کہ ریت
اور مٹی میں دفن کردی جائوں ۔ ذکرہ ہشام بن الکلبی ۔
بلکہ علامہ ابو القاسم عماد الدین محمود ابن احمد فارابی ایک واقعہ ایک صحابیہ کا نقل کرتے ہیں ۔ کہ ایک بی بی رباب نامی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک شخص عمر و نامی کی زوجہ تھیں ۔ انکے آپس میں عہد ہو لیا تھا کہ جو پہلے مرے دوسرا تادم مرگ نکاح نہ کرے ۔ عمر و کا انتقال ہوا ۔ رباب ایک مدت تک بیوہ رہیں ۔ پھر انکے باپ نے نکاح کردیا ۔ اسی رات اپنے پہلے شوہر کو خواب میں
دیکھا ۔ انہوں نے کچھ شعر اس معاملہ کی شکایت میں پڑھے ۔
یہ صبح کو خائف و ترساں اٹھیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے حال عرض کیا : آپنے حکم دیا کہ مرتے دم تک تنہائی سے جی بہلائیں اور اس شوہر کو حکم دیا کہ انہیں چھوڑ دیں ۔
انہوں نے چھوڑدیا ۔ الاصابہ فی تمیز الصحابہ ۔
فتاوی رضویہ ۵/ ۵۸۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع