30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۰۴۱۔ مجمع الزوائد للہیثمی، ۹/۲۵۷ ٭ کنز العمال للمتقی، ۳۴۴۲۴
۱۰۴۲۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب الکفن فی القمیص الذی الخ، ۱/۱۶۹
انا بین خیر تین۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین جب مرا تو اسکے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا مجھے اپنی قمیص مبارک عطا فرمائیں کہ میں اپنے والد کو اس میں کفن دوں اور آپ اسکی نماز جنازہ پڑھیں اور مغفرت کی دعا کریں ۔ چنانچہ حضور نے ْقمیص مبارک عطا فرمائی اور فرمایا : مجھے اطلاع دینا میں نماز جنازہ پڑھونگا ۔ لہذا اطلاع آنے پر حضور نے جانے کا ارادہ فرمایا ۔ حضرت عمر نے روکا کہ آپ اس منافق پر کیسے نماز پڑھیںگے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع فرما دیا ہے ۔ سرکار نے فرمایا : مجھے پڑھنے نہ پڑھنے کا اختیا ر دیا گیا
ہے ۔
۲۰۴۳۔ عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : اتی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی بعد ما دفن فاخرجہ فنفث فیہ من ریقہ والبسہ
قمیصہ۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے یہاں اس وقت تشریف لائے جب کہ وہ دفن کیا جا چکا تھا ۔
آپنے اسکو نکلوایا اور اپنا لعاب دہن اس پر ڈالکر قمیص مقدس بھی عطا کی ۔
{۳} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ بدلہ اسکا تھا کہ روز بدر جب سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما گرفتار آئے برہنہ تھے ۔ بوجہ طویل قامت کسی کا کرتہ ٹھیک نہ آتا تھا ْ۔ اس مردک نے انہیں اپنا قمیص دیا تھا ۔ حضور عزیز غیور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہ چاہا کہ منافق کا کوئی احسان حضور کے اہل بیت کرام پر بے معاوضہ رہ جائے ۔ لہذا آپنے دو قمیصیں مبارک اسکے کفن میں عطا فرمائے ۔ نیز مرتے وقت وہ ریا کا ر نفاق شعار خود عرض کر گیا تھا کہ حضور مجھے اپنی قمیص مبارک میں کفن دیں ۔ پھر اسکے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے درخواست کی ۔ اور ہمارے کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کا داب قدیم ہے کہ کسی کا سوال رد نہیں فرماتے ۔ پھر حکمت الہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع