30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سنئے ۔ (یہاں وضاحت عورتوں کے اعتبار سے ہے )
۱ ۔ جس عورت کو اپنے نفس سے خوف ہو کہ غالبا اس سے شوہر کی اطاعت اور
اسکے حقوق واجبہ کی ادا نہ ہو سکے گی ۔ اسے نکاح ممنوع اور ناجائز ہے ۔ اگر کرے گی گنہگار
ہوگی ۔ یہ صورت کراہت تحریمی ہے ۔
۲۔ اگر یہ خوف مرتبہ ظن سے تجاوز کر کے یقین تک پہونچا تو اسے نکاح حرام قطعی ہے ایسی عورت کو نکاح اول خواہ ثانی کی ترغیب ہرگز نہیں دے سکتے۔ بلکہ ترغیب دینا خود خلاف شرع اور معصیت ہے ۔ کہ گناہ کا حکم دینا ہو گا ۔ یہ عورتیں یا انکے اولیا اگر نکاح کرنے سے انکار کرتے
ہیں تو گناہ سے انکار کرتے ہیں ۔ انہیں انکا رسے پھیرنے والا جاہل و مخالف شرع ۔
۳۔ جنہیں اپنے نفس سے ایسا خوف نہ ہو انہیں اگر نکاح کی حاجت شدید ہے کہ بے نکاح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۵۱۷۔ مجمع الزوائد للہیثمی، ۴/۲۵۲ ٭ اتحاف السادۃ للزبید، ۵/۲۸۸
الجامع الصغیر للسیوطی، ۲/۵۲۲ ٭
کئے معاذ اللہ گناہ میں مبتلا ہونے کا ظن غالب ہے تو ایسی عورتوں کو نکاح کرنا واجب ہے ۔
۴۔ بلکہ بے نکاح معاذ اللہ وقوع حرام کا یقین کلی ہو تو انہیں فرض قطعی ۔ یعنی جبکہ اسکے سوا کثرت روزہ وغیرہ معالجات سے تسکین متوقع نہ ہو ۔ ورنہ خاص نکاح فرض واجب نہ ہوگا بلکہ دفع گناہ جس طریقہ سے ہو ۔ ایسی عورتوں کو بے شک نکاح پر جبر کیا جائے اگر خود نہ کریں گی وہ گنہگار ہوں گی ۔ اور اگر انکے اولیا اپنے حد مقدور تک کوشش میں پہلو تہی کریں گے تو وہ بھی
گنہگار ہوں گے ۔
۵۔ اگر حاجت کی حالت اعتدال پر ہو ۔ یعنی نہ نکاح سے بالکل بے پرواہی نہ اس شدت کا شوق کہ بے نکاح وقوع گناہ کا ظن یا یقین ہو ایسی حالت میں نکاح سنت ہے مگر بشرطیکہ عورت اپنے نفس پر اطمینان کافی رکھتی ہو ۔ کہ مجھ سے ترک اطاعت اور حقوق شوہر کی اضاعت اصلاً
واقع نہ ہوگی ۔
۶۔ اگر ذرا بھی اسکا اندیشہ ہو تو اس کے حق میں نکاح سنت نہ رہے گا صرف مباح ہو گا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع