30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسکی سند کو جید کہا ۔ کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب شام میں سکونت اختیار فرمائی ۔ خواب میں حضور پرنور سید المحبوبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی
زیارت سے شرفیاب ہوئے ۔ کہ ارشاد فرماتے ہیں ۔
ماہذہ الجفوۃ یابلال ! اما آن لک ان تزورنی یابلال! ۔
اے بلال! یہ کیا جفا ہے ۔ اے بلال ! کیا ابھی تجھے وہ وقت نہ آیا کہ میری زیارت کو حاضر ہو ۔بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ غمگین وترساں وہر اساں بیدار ہوئے ۔ اور فوراًبہ قصد مزار پر انوار جانب مدینہ شدالرحال فرمایا ۔ جب شرف حضور پایا ۔ قبر انور کے حضور رونا اور منہ اس خاک پاک پر ملنا شروع کیا ۔ دونوں صاحبزادے حضرات امام حسن و حسین صلی اللہ تعالیٰ علی جدہما وعلیہما وبارک وسلم تشریف لائے ۔بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں گلے لگاکر پیار کرنے لگے۔ شہزادوں نے فرمایا : ہم تمہاری اذان کے مشتاق ہیں ۔ یہ سقف مسجد پر جہاں زمانۂ اقدس میں اذان دیتے تھے گئے ۔ جس وقت اللہ اکبر ، اللہ اکبر ،کہا ۔ تمام مدینے میں لرزہ پڑگیا ۔ جب اشہد ان لا الہ الا اللہ ،کہا ۔ مدینے کا لرزہ دوبالا ہوا ۔ جب اس لفظ پر پہونچے ۔اشہد ان محمد رسول اللہ ،کنواری نو جوان لڑکیاں پردوں سے نکل آئیں اور لوگوں میںغل پڑ گیا ۔ کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مزار پر انوار سے باہر تشریف لے آئے ۔ انتقال حضور محبوب ذوالجلال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کسی دن مدینہ منورہ کے مردوزن میں وہ رونا نہ پڑا تھا جو
اس دن ہوا ۔
درنمازم خم ابروئے تو بریاد آمد حالتے رفت کہ محراب بفریاد آمد
اور نیز وہ حدیث بھی مؤید وجوب ہوسکتی ہے جو گذری ۔کہ امام ابن عساکر نے تاریخ میں ،اورامام ابن النجار نے الدرۃ الثمینہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ۔ کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میرا جو امتی باوصف مقدرت میری زیارت نہ
کرے اسکے لئے کوئی عذر نہیں ۔
حتی کہ بعض ائمہ شافعیہ زیارت شریفہ کو مثل حج فرض بتاتے ہیں ۔ علامہ عبد الغنی بن احمد بن شاہ عبد القدوس چشتی گنگوہی قدس سرہ شاگرد امام علامہ ابن حجر مکی رحمہم اللہ تعالیٰ سنن الہدی
میں فرماتے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع