30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شفا شریف میں فرمایا ۔
زیارت قبر میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم ہے اور نبی صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم کی تعظیم واجب ۔
اسی طرح مواہب لدنیہ شریف میں ہے ۔
اور شک نہیں کہ ظاہر دلیل اسی کو مقتضی ۔ ابن عدی وغیرہ کی حدیث گذری ۔ کہ جو حج کرے اور میری زیارت کو حاضر نہ ہو بے شک اس نے مجھ پر جفا کی ۔ علامہ علی قاری نے شرح لباب میں اسکی سند کو حسن کہا اور وہی شرح شفاء اور درر مضیہ اور امام ابن حجر جوہر منظم میں صحیح
فرماتے ہیں ۔
انہیں دونوں کتابوں میں فرمایا ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جفا حرام ہے ، تو زیارت نہ کرنا کہ متضمن جفا
ہے حرام ہوا ۔
جذب القلوب میں ہے ۔
صاحب مواہب لدنیہ گفتہ : ایں ظاہر است در حرمت ترک زیارت ، زیراکہ دریں جفا واذائے اوست ، وجفا واذائی آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حرام است باجماع، پس واجب
باشد از الۂ جفا ، وآں بزیارت خواہد بود پس زیارت واجب باشد ۔
امام قسطلانی اس عبارت کے بعد فرماتے ہیں ۔
بالجملہ ،جو باوجود قدرت ترک زیارت کرے اس نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وسلم پر جفا کی اور حضور کا ہم پر یہ حق نہ تھا ۔
اسی طرح ترک زیارت کو موجب جفاہونے میں متعدد حدیثیں آئیں کہ حضرت والد علام قدس سرہ نے جواہر البیان شریف میں ذکر فرمائیں ۔ اور شک نہیں کہ افراد میں اگر چہ کلام
ہو مجموع حسن تک مترقی ، اور حسن اگر چہ لغیرہ ہو محل احتجاج میں کافی۔
اسی کے مناسب قصئہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ۔ کہ امام عساکر وغیرہ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ، امام سبکی نے شفا اور علامہ سمہووی نے وفا ، اور امام ابن حجر نے جوہر منظم میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع