30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابراہیم علیہ السلام کی نیت کی ۔ پھر حنبلی سے فرمایا : تم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مخالفت کی ۔ کہ حضور نے مساجد ثلاثہ کے سوا چوتھی مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے سفر سے ممانعت فرمائی ۔ اور میں نے حضور کا اتباع کیا ۔ کہ حضور نے فرمایا : قبور کی زیارت کرو۔ کیا اسکے ساتھ کہیں یہ بھی فرمایا ہے ۔ مگر قبور انبیا
کی زیارت نہ کرو ۔ حنبلی کو سوا حیرت کے کچھ بن نہ آیا ۔
یہ واقعہ شیخ ولی الدین عراقی نے اپنے والد امام زین الدین عراقی سے نقل کیا ۔ دیکھئے !
خداکی شان ، جس حدیث سے یہ لوگ اپنے زعم میں مزارات کی طرف سفر کی ممانعت نکالتے
ہیں ۔خدائے تعالیٰ نے اسی حدیث سے ان پر الزام قائم فرمایا ۔ وللہ الحمد ۔ الطرۃ الرصنیہ ۲۸
۱۴۹۴۔ عن عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : سمعت رسول اللہ صلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۴۹۴۔ السنن الکبری للبیہقی، ۵/۲۴۵ ٭ الترغیب و الترہیب للمنذری، ۲/۲۲۴
کنز العمال للمتقی، ۱۲۳۷۱، ۵/۱۳۵ ٭ الدر المنثور للسیوطی، ۱/۲۳۷
کشف الخفاء للعجلونی، ۲/۳۴۶ ٭ تنزیہ الشریعۃ ۱/۲۷۳
ارواء الغلیل للالبانی، ۴/۳۳۳ ٭ اللآلی المصنوعۃ للسیوطی، ۲/۷۲
تذکرۃ الموضوعات للفتنی، ۷۵ ٭ اتحاف السادۃ للزبیدی، ۴/۴۱۶
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : مَنْ زَارَ قَبْرِیْ ، اوقال : مَنْ زَارَنِی کُنْتُ لہٗ شَفِیْعًا
أوْشَہِیْدًا، وَمَنْ مَّاتَ فِی أحَدِ الْحَرَمَیْنِ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِی الآمِنِیْنَ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ۔
النیرۃ الوضیہ ۲۶
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : جس نے میری قبر کی زیارت کی ،یافرمایا : جس نے میری زیارت کی میں اسکے لئے شفیع وگواہ ہونگا ۔ اور جو حرمین شریفین زادہما اللہ شرفا وتعظیما میں
سے کسی ایک میں انتقال کرے کل روز قیامت اللہ تعالیٰ اسکو امن والوں میں اٹھائے گا ۔۱۲م
(۳) روضۂ انور کی زیارت گویا حضور کادیدار پر انوار ہے
۱۴۹۵ ۔ عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِی بَعْدَ مَوْتِیْ کَانَ کَمَنْ زَارَنِی فِی حَیَاتِی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع