30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲) روضئہ انور کی زیارت شفاعت کا اہم ذریعہ ہے
۱۴۹۳ ۔ عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : مَنْ جَآئَ نِی زَائِرًا لاَیَعْمَلُہٗ حَاجَّۃً اِلاَّ زِیَارَتِی کَانَ حَقًا عَلَیَّ أنْ
أکُوْنَ لَہٗ شَفِیْعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ الطرۃ الرضیہ ۲۶
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو خالص میری زیارت کیلئے حاضر ہوا اسکا مجھ پر حق ہے کہ میں قیامت کے
دن اسکی شفاعت کروں ۔۱۲م
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۴۹۲۔ الشفا للقاضی عیاض ، فصل فی حکم زیارۃ قبرہ ﷺ ، ۲/۷۰
۱۴۹۳۔ المعجم الکبیر للطبرانی، ۱۲/۲۹۱ ٭ مجمع الزوائد للہیثمی، ۴/۲
اتحاف السادۃ للزبیدی، ۴/۴۱۶ ٭ الدر المنثور للسیوطی، ۱/۲۳۷
تاریخ اصفہان لابی نعیم ، ۲/۲۱۹ ٭ کنز العمال للمتقی، ۳۴۹۲۸، ۲/۲۵۶
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
امام ابن ہمام فرماتے ہیں ۔ میرے نزدیک افضل یہ ہے کہ سفر خاص بقصد زیارت کرے ۔ یہاں تک کہ اسکے ساتھ مسجد شریف کا بھی ارادہ نہ ہو کہ اس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم زیادہ ہے ۔ جب حاضر ہوگا حاضری مسجدخود ہوجائیگی ۔ یااسکی نیت
دوسرے سفر پر رکھے ۔
نیز اما م ابن السکن نے اشارہ فرمایا : کہ اس حدیث کی صحت پر ائمہ حدیث کا اجماع ہے
مواہب لدنیہ میں ہے ۔
امام اجل ،خاتمۃ الحفاظ والمحدثین ، امام زین الدین عراقی ،استاذ جلیل ،جبل الحفظ ، استاذالمحدثین ،امام ابن حجر عسقلانی رحمہما اللہ تعالیٰ زیارت مزار پر انوار حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو جاتے تھے ۔ بعض حنبلی حضرات کے ہمراہ رکاب تھے۔ ایک حنبلی نے باتباع ابن تیمہ کہ مدعی حنبلیت تھا یوں کہا: میں نے مسجد خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام میں نماز پڑھنے کی نیت کی ۔ امام نے فرمایا : میں نے زیارت قبر حضرت سیدنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع