30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۴۸۵۔ السنن للدار قطنی، کتاب الحج، ۲/۲۷۲
کنز العمال للمتقی، ۴۵۴۸۴، ۱۶/۴۶۸ ٭ الجامع الصغیر للسیوطی، ۲/۵۲۳
۱۴۸۶۔ المعجم الکبیر للطبرانی، ۵/۲۲۶ ٭ مجمع الزوائد للہیثمی، ۳/۲۸۲
کنز العمال للمتقی، ۱۲۳۴۰، ۵/۱۲۵ ٭
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : مَنْ حَجَّ عَنْ أبَوَیْہِ وَلَمْ یَحُجَّا اُجْزِیٔ عَنْہُمَا وَبَشَّرَتْ
أرْوَاحُہُمَا فِی السَّمَآئِ وَکُتِبَ عِنْدَ اللّٰہِ بَرًا ۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کے ماں باپ بے حج کئے مر گئے ہوں۔ یہ انکی طرف سے حج کرے گا تووہ ان دونوں کا حج ہوجائے گا اور انکی روحوں کو آسمان میں خوش خبری دی جائے گی ۔یہ شخص
ماں باپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نیک سلوک کرنے والا لکھا جائے گا ۔
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
ان احادیث نے گویا اس بات کی صراحت کردی کہ ہر ایک کوکامل ثواب ملیگا ۔ ظاہر ہے کہ حج ایک عبادت واحد ہے جس کا بعض کافی نہیں ۔ نہ وہ کل سے مغنی ہو بلکہ قابل اعتبار ہی نہیں ۔ جیسے فجر کی دو رکعتوں سے ایک رکعت ۔ یا صبح سے دوپہر تک کا روزہ ۔ تو یہ حج کہ دونوں کی طرف سے کافی ہو ضرور ہے کہ ہر ایک کی طرف سے پورا حج واقع ہو ۔ مگر فقہ میں مبین ومبرہن ہو لیا کہ یہ اجزاء بمعنی اسقاط فرض نہیں ۔ تو لاجرم یہ ہی معنی مقصود کہ دونوں کو کامل حج کا ثواب
ملیگا ۔ فتاوی رضویہ ۴/۲۰۰
//////////////////////////
///////////////////////
////////////////////
//////////////////
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع