30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثامناً ۔ ساری بحث ومباحثہ کے بعد اعلان حج اگر مسجد حرام میں ہونا ثابت بھی ہو تو یہ گذشتہ شریعت کا ایک فعل ہوگا ۔ اور گذشتہ شرائع کے احکا م ہمارے لئے دلیل نہیں ۔ جب تک قرآن وحدیث میں اسکا بیان بلا انکار نہ ہو ۔ چنانچہ اصول امام بزدوی ، منار ، اور فن اصول کے بقیہ تمام متون وشروح میں اسکی تنصیص ہے ۔ امام نسفی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے کشف الاسرار
میں فرمایا :
ہم نے اس میں یہ شرط لگائی کہ اللہ ورسول بے انکار اسکا بیان فرمائیں ۔ اہل کتاب کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ۔ اور جو انکی کتاب سے ثابت ہو اسکا بھی ۔ کہ ان لوگوں نے آسمانی
کتابوں میں تحریف کردی ۔
اسی طرح اہل کتاب اسلام لانے والوں کی بات کا بھی بھروسہ نہیں ۔ کہ ان لوگوں نے
انہیںمحرف کتابوں میں دیکھا ہوگا ۔ یا انہیں کی جماعت سے سنا ہوگا ۔
بحر العلوم حضرت علامہ عبد العلی رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ نے فواتح رحموت میں فرمایا ۔
خیال ہوسکتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات پر اعتماد ہونا چاہیئے ۔ کہ وہ تو بلا شبہ سچے تھے ۔ اور انکی بات میں جھوٹ کا احتمال نہیں ۔ لیکن اسکا جواب یہ ہے کہ انہوں نے تو اسی محرف کوکلام الٰہی سمجھ کر سیکھا ہوگا ۔ کیونکہ تحریف تو انکے پیداہونے سے پہلے ہی
ہوچکی تھی ۔
اور اعلان حج کی یہ روایت ایسی ہی ہے ۔ کہ نہ تو قرآن عظیم میں اسکا بیان ہے ، اور
نہ کسی حدیث میں ہی اسکا تذکرہ ہے ۔ تو سرے سے اس حدیث سے استدلال ہی غلط ہے ۔
یہ بھی اس صورت میں کہ مخالفین کادعوی جوں کا توں تسلیم کرلیا جائے ۔ورنہ تفصیل گذر چکی کہ مسجد حرام کے اندر اعلان حج کا تذکرہ نہ کسی مسلمان سے مروی ، اور نہ کتابی سے ، اور نہ کافر سے ، اندرون مسجد کی بات تو صرف ان وہابی صاحب کی ہے ۔ تو وہ اپنے اس دعوی میں اپنی
خواہش نفس سے ہی استدالال کرتے ہیں ۔
تاسعاً ۔ قابل تعجب بات تو یہ ہے کہ کہا گیا ۔ ’’مقام ابراہیم اب بھی مطاف کے اندر ہے یہ تومشاہدہ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع