30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھڑے ہوکر اعلان فرمایا : اعلان سے فارغ ہوئے تو حکم دیا کہ اس پتھر کو لیجاکر کعبہ کے دروازہ کے سامنے رکھا جائے ۔ اور آپ اس پتھر کی طرف رخ
کرکے نماز پڑھتے تھے ۔
سادساً۔ اس شبہ کو جڑ بنیاد سے اس طرح ختم کیا جاسکتا ہے کہ حضرت خلیل علیہ السلام کے اعلان حج کے وقت مقام ابراہیم پر کھڑے ہونے کی روایت اسرائیلی ہے ۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنی اسرائیل کی روایت قبول فرماتے تھے ۔ جیساکہ اس روایت
میں انہوں نے کہا ۔
ابن ابی حاتم ربیع بن انس سے روایت کرتے ہیں ۔ کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما
نے اہل کتاب سے روایت کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی ۔
یہ حضرت موسیٰ و خضر علیہما السلام کے قصہ میں ہے ۔ مندرجہ ذیل روایت کو بھی ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہی ثابت رکھا ہے ۔ کہ میں نے حضرت کعب احبا ر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سدرۃ المنتہی کے بارے میںپوچھا ۔ تو انہوں نے کہا : انتہائی حد پر ایک بیری کا درخت ہے جہاں تک فرشتوں کا علم پہونچتا ہے ۔ اور میں نے ان سے جنۃ الماوی کے بارے میں پوچھا ۔ تو انہوں نے فرمایا : ایسا باغ جس میں شہداء کی روحیں سبزپرندوں کے
جسم میں رہکر سیرکرتی ہیں ۔
ابن جریر نے ثمر سے روایت کی ۔ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت کعب
کے پاس آئے اور سدرۃ المنتہی کے بارے میں پوچھا ۔
القصہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسرائیلی روایت قبول کرتے تھے ۔ اور یہ روایت بھی اسرائیلی ہے ۔ کہ مقام ابراہیم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اعلان حج فرمایا ۔ لہٰذا معتمد وہی حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی روایت ہے کہ اعلان حج جبل ثبیر سے فرمایا
پھر یہ کہ دونوں روایتوں میں کوئی ایسا تعارض بھی نہیں ۔ کیونکہ جبل ثبیر بھی حدود حرم کے اندر ہی ہے ۔ چنانچہ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہ سارا حرم مقام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع