30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کر کے ایک ادھر ادھر منتقل ہو نے والی چیز پر ماضی کا حکم لگا نا جائز نہیں ۔ اور ایسے قیاس سے کوئی یقینی بات ثابت نہیں ہوتی ۔ اسی لئے تو اسکی تعبیر ظاہر اور اظہر سے کی ہے ۔ اور ظاہر دلیل پکڑنے والے کیلئے مفید نہیں ۔ اس سے معترض کوفائدہ پہونچتا ہے ۔ اور
آپ مستدل ہیں ۔
ثانیاً۔ قطبی کی روایت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مقام ابراہیم کا ٹھکانا کہیں اور تھا ۔ تعمیر کی ضرورت سے دیوار کعبہ کے پاس لایا گیا ۔ اور عادت یہ ہے کہ جو چیز ضرورۃً کہیں رکھی جاتی ہے وہ ضرورت پوری ہونے کے بعد وہاں سے علیحدہ کردی جاتی ہے ۔ خود حرم شریف میں یہ دستور دیکھاگیا کہ دخول عام کے دن سیڑھیا ں اور منبر لاکر لگادیئے جاتے ہیں ۔ پھر علیحدہ کر لئے
جاتے ہیں ۔ اور انکے اصل مقام پر انہیں لو ٹادیا جاتا ہے ۔
ثالثاً ۔ تاریخ قطبی میںاسکا کوئی ذکر نہیں کہ وہ پتھر عہد ابراہیم علیہ السلام سے اس
مقام پر قائم ہے ۔ پھر اس روایت کو سند میں ذکر کرنا جہالت ہے ۔
رابعاً ۔ اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت خلیل علیہ السلام کے زمانہ میں وہ پتھر دیوار کے قریب تھا تب بھی یہ گمان کرنا کہ اعلان بھی اسی مقام سے کیا گیا ۔ زعم باطل ہے ۔ جسکی کوئی دلیل نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ اس پتھر کے وہاں سے منتقل ہونے کی کوئی روایت نہیں ۔ اور اگر یہ کہا جا ئے کہ ظاہر یہ ہی ہے کہ منتقل ہوا ۔ تو ہم بتا چکے ہیں یہ
استصحاب ہے جس سے مستدل کو فائدہ نہیں پہونچتا ۔
خامساً۔ اس امر کی روایت ہے کہ مقام ابراہیم اعلان حج کے وقت موجودہ مقام پر
موجود نہیں تھا ۔ جس سے تمام اوہام کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔
ازرقی نے ہی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ۔
میں نے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقام ابراہیم میں پڑے ہوئے نشان کے بارے میں سوال کیا ۔ تو انھوں نے فرمایا : جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اعلان حج کا حکم دیا گیا تو آپ نے اسی پتھر پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع