30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان رفیع بلاغت بے مثل کوشایاں وبجا ہے ۔
کلمات علمائے کرام بھی اس نفیس معنی سے خالی نہ رہے ۔ امام ابن حجر مکی شرح مشکوۃ
المصابیح میں اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں ۔
ای وقد یقبل اللیل ولا تکون غربت حقیقۃ ، فلا بد من حقیقۃ الغروب،
یعنی کبھی رات آجاتی ہے اور ابھی حقیقۃً غروب نہیں ہوا ہوتا ۔اس لئے حقیقی غروب
ضروری ہے ۔
حفنیعلی الجامع الصغیر میں ہے ۔
قولہ: وغربت الشمس ، لم یکتف بما قبلہ عن ذلک ، اشارۃ الی انہ قد
یوجد اقبال الظلمۃ وادبار الضؤ ولم یوجد غروب الشمس ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان ’’ اور سورج ڈوب جائے ‘‘ ہے ۔ آپ نے سیاہی کے آنے اور روشنی کے جانے پر اکتفا نہیں کیا اور غروب کی تصریح فرمائی ۔ کیونکہ کبھی
سیاہی آجاتی ہے اور روشنی چلی جاتی ہے مگر غروب آفتاب نہیں ہوتا ۔
اور اگرحدیث میںلیل ونہار معنی ٔ حقیقی پر رکھئے تو اگر چہ اتنا ضرور ہے کہ مجاز مرسل کی جگہ مجاز عقلی ہوگا ۔ کیونکہ تم خوب جانتے ہو کہ ادھر سے ادھر جانے کی نسبت لیل ونہار کی طرف
حقیقۃ نہیں ۔
مگر اب تین الفاظ کریمہ کے جمع ہونے سے سوال متوجہ ہوگا ۔اور شک نہیں کہ اس معنی پر امور ثلٰثہ متلازم ہیں اور ایک کا ذکر باقی سے مغنی ۔ یہ وہی بات ہے جو امام نودی نے منہاج میں کہی ہے کہ علمائے کرام نے فرمایا : ان تین میں سے ہر ایک باقی دو کو یا تو متضمن ہوتا ہے یا
ان کے ساتھ لازم ۔
اسکی اطیب توجیہ وہ ہے کہ علامہ طیبی نے شرح مشکوۃ میں افادہ فرمائی ۔ کہ
انما قال : وغربت الشمس ، مع الاستغناء عنہ ، لبیان کمال الغروب، کیلا
یظن انہ یجوز الافطار بغروب بعضہا ۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : اور سورج ڈوب جائے ۔ حالانکہ بظاہر اسکی ضرورت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع