30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۴۴۲۔ السنن للنسائی، باب تاخیر السحور ، ۱/۲۳۴
۱۴۴۳۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب متی یحل فطر الصائم ، ۱/۲۶۲
الصحیح لمسلم ، باب بیان وقت القضاء الصوم ، ۱/۳۵۱
السنن لابی داؤد ، الصیام باب وقت فطر الصائم ، ۱/۱
الجامع للترمذی ، باب ما جاء اذا طبلاللیل الخ، ۱/۸۸
المسند لاحمد بن حنبل، ۱/۳۵ ٭ الجامع الصغیر للسیوطی، ۱/۳۴
السنن الکبری للبیقی، ۴/۲۱۶ ٭ مشکوۃ المصابیح للتبریزی، ۱۹۸۵
شرح السنۃ للبغوی، ۶/۳۶۹ ٭ کنز العمال للمتقی ،۲۳۸۷۶، ۸/۵۰۹
البدایۃ و لانہایۃ لابن کثیر ، ۸/۳۱۳ ٭ الدر المنثور للسیوطی، ۱/۲۰۰
التفسیر للطبری، ۳/۱۰۳ ٭ التفسیر للبغوی، ۱/۱۶۴
اتحاف السادۃ للزبیدی، ۳/۳۵۲ ٭ المسند للحمیدی، ۲۰
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اِذَا أقْبَلَ اللَّیْلُ مِنْ ھٰہُنَا ، وَأدْبَرَ النَّھَارُ مِنْ
ھٰہُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أفْطَرَ الصَّا ئِمُ ۔
امیر المؤمنین حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب ادھر سے رات آئے اور ادھر سے دن پیٹھ دکھائے
اور سورج پورا ڈوب جائے تو روزہ دار کا روزہ پورا ہوا ۔
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
لیل سے مراد سیاہی اور نہار سے ضو ، فان الاقبال من ھہنا والا دبار من ہہناانما یکون لہما ، تیسیر میں ہے ۔ اذا اقبل اللیل یعنی ظلمتہ وادبر النھار ای ضؤہ۔ عالم ماکان ومایکون صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تینوں لفظ اسی ترتیب سے ارشاد فرمائے جس ترتیب سے واقع ہوتے ہیں ۔ پہلے سیاہی اٹھتی ہے ۔ اس وقت تک اگر افق صاف اور غبار وبخار سے پاک ہو آفتاب کی چمک باقی رہتی ہے ۔ بلکہ قلل جبال واعالی اغصان شجر پر عکس ڈالتی ہے ۔ پھر جب قرص چھپنے پر آیا تکاثف ابخرئہ افقیہ وکثرت بعد عن الابصار وطول مرور شعاع البصر فی ثخن کرۃ البخار کے باعث روشنی بالکل محتجب ہو جاتی ہے ۔ مگر ہنوز قدرے فرض بالائے افق مرئی شرعی باقی ہے ۔ اس کے بعد آفتاب ڈوبتا اور وقت افطار ونماز آتاہے ۔ اس صاف ونفیس وبے تکلف معنی پر بحمد اللہ تعالیٰ انتظام کلام اسی اعلی جلالت پر جلوہ فرما ہے جو صاحب جوامع الکلم صلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع