30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱) سحری کا آخری وقت
۱۴۴۲۔ عن زربن حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قلنا لحذیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ : ای ساعۃ تسحرت مع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، قال :
ھوالنھار الا ان الشمس لم تطلع ۔
حضرت زربن حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا : آپ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری
کھائی تھی ؟ کہا: دن ہی تھا ، مگر سورج نہ چمکا تھا ۔
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
رائے فقیر میں اس روایت کا عمدہ محمل یہ ہی ہے کہ حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے علم نبوت کے مطابق حقیقی منتہائے لیل پر سحری تناول فرمائی ۔ کہ فراغ کے ساتھ ہی صبح چمک آئی ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گمان ہوا کہ سحری دن میں کھائی بعد صبح ، اور واقعی جو شخص سحری کا پچھلا نوالہ کھاکر آسمان پر نظر اٹھائے تو صبح طالع پائے ، وہ سوا اسکے کیا گمان
کرسکتا ہے ۔ فتاوی رضویہ ۲/۳۶۰
(۲) افطار کا وقت
۱۴۴۳۔عن أمیر المؤمنین عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع