30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
التمہید لابن عبد البر، ۲/۴۵ ٭ شرح السنۃ للبغوی، ۶/۲۳۴
مشکل الآثار للطحاوی، ۱/۲۰۹ ٭ الدر المنثور للسیوطی ، ۱/۱۸۳
فتح الباری للعسقلانی، ۴/۱۲۴ ٭ کنز العمال للمتقی، ۲۳۷۸۴
التاریخ للبخاری، ۴/۱۱۷ ٭ التفسیر للقرطبی، ۲/۳۰۲
علیہ وسلم : شَہْرَانِ لاَیَنْقُصَانِ ،شَہْرَا عِیْدِ رَمْضَانَ وَذُوالْحِجَّۃِ ۔
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا : دو مہینے ناقص نہیں ہوتے ۔ دونوں عید کے ، یعنی عید الفطر اور عید الضحی کے ۔
۲۔امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں
بعض علماء نے اسکے یہ معنی لئے ہیں کہ دونوں مہینے ایک سال میں ۲۹؍کے نہیں ہوتے
صحیح بخاری میں ہے ۔
قال محمد : لایجتمعان کلاھما ناقص ۔ دونوں ۲۹؍ کے نہیں ہوتے ۔
امام احمد بن حنبل نے فرمایا :
لاینقصا ن معا فی سنۃ واحدۃ شہررمضان وذوالحجہ ، ان نقص احدھما
تم الآخر ۔
دونوں ایک ہی سال میں ۲۹؍ کے نہیں ہوتے ۔ اگر ایک ۲۹؍ کا ہوگا تو دوسرا پورے
تیس کا ہوگا ۔
ان اقوال کی مؤید وہ حدیث ہے جو بطریق زید بن عقبہ حضرت سمرہ بن جندب رضی
اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ۔
۱۴۱۴۔عن سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : شَہَرَا عِیْدٍ لاَیَکُوْنَانِ ثَمَانِیَۃً وَّخَمْسِیْنَ یَوْمًا۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عید کے دونوں مہینے ۵۸ ؍ دن کے نہیں ہوتے ۔
بایں ہمہ محققین کے نزدیک اس سے اکثری اغلبی حکم مراد ہے ، نہ دائمی ابدی ، امام
طحاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع