30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)اہل قرابت کوزکوۃوصدقات دینا اجر عظیم کا باعث
۱۳۳۳۔عن زینب امرأۃ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما قالت : کنت فی المسجد فرأیت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال : تَصَدَّقْنَ وَ لَوْ مِنْ حُلْیِکُنَّ ، و کانت زینب تنفق علی عبد اللہ و أیتام فی حجرہا ، فقالت لعبد اللہ ! سل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، أیجزی عنی أن انفق علیک و علی أیتام فی حجری من الصدقہ ؟ فقال : سلی أنت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : فانطلقت الی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فو جدت اِمرأۃ من الأنصار علی الباب حاجتہا مثل حاجتی ، فمر علینا بلال فقلنا : سل النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ایجزیٔ عنی أن أتصدق علی زوجی و أیتام لی حجری ، و قلنا : لا تخبرنا : فدخل فسألہ فقال : من ہما ؟ قال : زینب ، فقال : أیُّ الزَّیَانِبِ ،
قال : اِمرأۃ عبد اللہ ، قال: نَعَمْ ، لَہَا أجْرَانِ ، أجْرُ الْقَرابَۃِ وَ أجْرُ الصَّدَقَۃِ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ کی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں تھی کہ سرکار نے مجھے دیکھ کر ارشاد فرمایا : صدقہ دیا کروخواہ تمہارے زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔ حضرت زینب کا طریقۂ کار یہ تھا کہ وہ صدقہ اپنے شوہر اور یتیموں کو دیا کرتی تھیں جو انکی کفالت میں تھے ۔ لہذا انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کر لینا کہ کیا صدقہ کا مال تم پر اور ان یتیموں پر خرچ کر سکتی ہوں ۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : تم خود ہی پو چھ لینا ۔ چنانچہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ دروازے پر ایک انصاری بی بی ملیں وہ بھی میرے جیسا ہی مسئلہ معلوم کرنے آئیں تھیں ۔ اتنے میں سامنے سے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ راستہ سے گزرے ہم نے کہا: ہمارے لئے حضور سے یہ مسئلہ معلوم کرلو ! کیاہم اپنے شوہر اور اپنی کفالت میں یتیموں کو صدقہ دے سکتے ہیں ۔ لیکن ہماری اطلاع نہ دینا ۔ انہوں نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۳۳۳۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب الزکاۃ علی الزوج و القیام ، ۱/۱۹۸
الصحیح لمسلم ، کتاب الزکاۃ ، ۱/۳۲۳
المسند لاحمد بن حنبل ، ۶/۳۶۳
خدمت میںحاضر ہو کر دریافت کیا : سرکار نے فرمایا : یہ دونوں کون ہیں ؟ بولے : زینب، فرمایا : کون زینب؟ عرض کیا ؛ عبد اللہ بن مسعود کی بیوی ،فرمایا:ہاں،انکو صدقہ دے سکتی ہیں اور اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع