30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمائیں تاکہ ہم بھی دوسروں کی طرح صدقات وصول کر کے لائیں اور اس سے حصہ پائیں۔ حضور خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے کچھ بولنے کا ارادہ کیا لیکن ام المؤمنین ہمیں پردہ کے پیچھے سے اشارہ فرمارہی تھیں کہ ہم کچھ نہ
بولیںپھر حضور نے ارشاد فرمایا بیشک صدقہ آل محمد کیلئے جائز نہیں وہ تو لوگوں کے مالوں کا میل
ہے۔ ۱۲م
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
بیشک اس تحریم کی علت ان حضرات عالیہ کی عزت و کرامت اور نظافت و طہارت ہے۔ کہ زکوۃ مال کا میل ہے اور گناہوں کا دھوون ۔ اس ستھری نسل والوں کے قابل نہیں خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس تعلیل کی تصریح فرمائی ۔ یہ ہی ہمارے عامۂ علماء کا مذہب ہے حتی کہ جمہور علمائے کرام نے بنو ہاشم کو مال زکوۃ سے عمل صدقات کی اجرت لینا ناجائز کہا حالانکہ یہ اغنیاء کیلئے بھی روا ہے کہ من کل الوجوہ زکوۃ نہیں ۔ مگر آخرشبہ زکوۃ ہے اور بنی
ہاشم کی جلالت شان شبہ لوث سے بھی براء ت کی شایاں ۔ فتاوی رضویہ ۴/۳۹۲
(۲) بنو ہاشم کا غلام بھی زکوۃ نہیں لے سکتا
۱۳۳۲۔عن ہر مز اوکیسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہ مر علی رسول اللہ صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم قال : فدعا نی فجئت فقال: یَا أبَا فُلاَنٍ ! اِنَّا أہْلُ الْبَیْتِ قَدْنُہِیْنَا أنْ
نَأکُلَ الصَّدَقَۃَ ، وَاِنَّ مَوْلَی الْقَوْمِ مِنْ أنْفُسِہِمْ فَلاَ تَأکُلُ الصَّدَقَۃَ ۔
حضرت ہرمز یاکیسان حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے آزاد کردہ،
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، کہتے ہیں : مجھے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بلایا تو میں حاضر ہوا ، ارشاد فرمایا : اے ابو فلاں ! ہم اہل بیت ہیں ۔ ہمیں
صدقہ کھانے سے منع کیا گیا ہے ۔ اور قوم کا غلام اسی میں شمار ہوتا ہے لہذا صدقہ مت کھانا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۳۳۲۔ شرح معانی الآثار للطحاوی، کتاب الزکوۃ ، ۱/۳۰۰
۳۔مصارف زکوۃ و صدقات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع