30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علی : لا تفعلا ، فو اللہ ! ما ہوبفاعل فقال ربیعۃ بن
الحارث : ما یمنعک من ہذا الا نفاسۃ علینا فو اللہ ! لقد نلت:صہر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فما نفسناہ علیک فقال علی: أنا أبو حسن ارسلاہمافانطلقاواضطجع فلما صلی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الظہر سبقناہ الی الحجرۃ فقمنا عند بأبہا حتی جاء فاخذ باذننا و قال : أخرجاما تصرران ثم دخل و دخلنا علیہ و ہو یومئذ عند زینب بنت حجش فتوکلنا الکلام ثم تکلم حدنا قال : یا رسول اللہ ! أنت أبر الناس واوصل الناس و قد بلغنا النکاح و قد جئناک لتؤمرنا علی بعض الصدقات فنؤدی الیک کما یؤدون و نصیب کما یصییبون فسکت حتی أردنا ان نکلمہ ، وجعلت زینب تلمع الینا من و راء الحجاب أن لا نکلمہ فقال : اِن الصدقۃ لا تنبغی لآل محمد ، اِنما ہی اوساخ
الناس ۔
حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ربیعہ بن حارث اور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ایک دن آپس میں گفتگو ہوئی کہ قسم بخدا! کیا ہی اچھا ہوکہ ہم ان دونوں لڑکوں عبد الطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میںبھیجیں ۔ یہ دونوں جاکر حضور سے عرض کریں کہ ان کو صدقات کی وصولی کیلئے عامل مقرر فرمادیں ۔ تاکہ ان کو بھی وہ دیا جائے جو دوسرے لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔ ان حضرات کے درمیان یہ گفتگوہورہی تھی کہ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تشریف لے آئے ۔ انہوں نے حضرت علی سے بھی اس بات کا تذکرہ کیا ۔ آپ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ۔ خدا کی قسم !حضور ایسا ہر گز نہیں کریں گے ۔ حضرت ربیعہ نے کہا : آپ تو ہمیں صرف اس لئے روک رہے ہیں کہ آپ کا حضور سے خسرالی رشتہ ہے ۔ تو اس سلسلہ میں ہم آپ جیسے نہیں ۔ لہذا ہمیں اجازت مل سکتی ہے ۔ اس پر حضرت علی نے فرمایا : تو تم بھیج کر دیکھ لو ۔ چنانچہ ہم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت علی وہیں ٹھہر گئے ۔ حضور نماز ظہر سے فارغ ہوئے تو ہم حجرئہ مقدسہ کی طرف بڑھے اور دورازہ پر کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ حضور تشریف لائے اور غایت محبت سے ہمارے کان پکڑ کر فرمایا : اپنے دل کی بات کہو!پھر ہم حضور کے ساتھ اندر داخل ہوئے ۔ ان دنوں حضور ام المؤمنین حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں قیام پذیر تھے ۔ ہم نے ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہوئے گفتگو شروع نہ کی ۔ پھر ہم میں سے ایک نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی اور صلہ رحمی فرمانے والے ہیں ۔ ہم اب بالغ ہوچکے ہیں ۔ اور ہم آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہمیں صدقات وصول کرنے پر مامور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع