30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہتا تھا اور اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرتا تھا ، اور عیال دار پاکدامن ، اور جہنم میں پہلے جانے والے تین شخص یہ ہونگے ۔ زبر دستی حاکم بننے والا ، مالدار زکوۃ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۲۹۵۔ السنن لابی داؤد ، باب زکوۃ الحلی، ۱/۲۱۸
المستدرک للھاکم، ۱/۳۹۰
نہ دینے والا ، بدکارنادار ۔
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
غرضکہ زکوۃ نہ دینے کی جانکاہ آفتین وہ نہیں کہ جن کی تاب آسکے، نہ دینے والے کو ہزارہا سال ان سخت عذابوں میں گرفتاری کی امید رکھنی چاہیئے کہ ضعیف البنیان انسان کی کیا جان ، اگر پہاڑوں پر ڈالی جائیں سر مہ ہو کر خاک میں مل جائیں ۔ پھر اس سے بڑھ کر احمق کون کہ اپنا مال جھوٹے سچے نام کی خیرات میں صرف کرے اور اللہ عزوجل کا فرض اور اس بادشاہ قہار کا وہ بھاری قرض گردن پر رہنے دے ۔ یہ شیطان کا بڑا دھوکہ ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاک کر تا ہے نادان سمجھتا ہے نیک کام کر رہا ہوں اور نہ جانا کہ نفل بے فرض نرے دھوکے کی
ٹٹی ہے ۔ اس کے قبول کی امید تو مفقود اور اسکے ترک کا وبال عذاب گردن پر موجود ۔
اے عزیز ! فرض خاص سلطانی قرض ہے ۔ اور نفل گویا تحفہ و ندرانہ، قرض نہ دیجئے اور بالائی بیکاری تحفے بھیجئے وہ قابل قبول ہوں گے ؟ خصوصاً اس شہنشاہ غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہان و جہانیاں سے بے نیاز ہے یوں یقین نہ آے تو دنیا کے جھوٹے حاکموں ہی کو آزمائے ، کوئی زمیندار مال گزاری تو بند کرے اور تحفہ میں ڈالیاں بھیجا کرے ۔ دیکھو! تو سرکار ی مجرم ٹھرتا ہے یا
اس کی ڈالیاں کچھ بہبود کا پھل لاتی ہیں ۔
ذرا آدمی اپنے ہی گریبان میں منہ ڈالے ۔ فرض کیجئے آسامیوں سے کسی کھنڈ ساری کا رس بندھاہوا ہے جب دینے کا وقت آئے وہ رس تو ہرگز نہ دیں ۔ مگر تحفہ میں آم خربوزہ بھیجیں ۔ کیا یہ شخص ان آسامیوں سے راضی ہوگا ۔یا آتے ہوئے رس کی نادہندگی پر جو آز ارنہیں پہونچا
سکتا ہے ان آم خربوزے کے بدلے اس سے باز آئے گا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع