30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہا اس وادی سے جلد گزرجانا
اقول : اس میں وہ پانچ وجوہ پیشیں جاری جو حدیث سابق کے بارے میں
گزریں ۔ فافہم
اور وہ حدیث کہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان بی بی کو منع فرمایا :
اقول ـ : وہاں بھی چاروجہ اولیں جاری کما لا یخفی ۔
اور دو حدیثوں میں امیر المؤمنین کا حضرت معیقیب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے
فرمانا : کہ دوسرا ہوتا تو مجھ سے ایک نیزے کے فاصلہ پر بیٹھتا ۔
اقول : انہیں حدیثوں میں ہے کہ ان کو اپنے ساتھ کھلایا ،اگر یہ امر عدویٰ کا سبب
عادی ہوتا تو اہل فضل کی خاطر سے اپنے آ پ کو معرض بلا میں ڈالنا روانہ ہوتا ۔
اوربعد کی حدیث نے تو خوب ظاہر کر دیا کہ امیر المؤمنین خیال عدویٰ کی بیخ کنی فرماتے تھے ۔ نری خاطر منظور تھی تو اس شدت مبالغہ کی کیا حاجت تھی کہ پانی انہیں پلاکران کے ہاتھ سے لیکر خاص منہ رکھنے کی جگہ پرمنہ لگا کر خود پیتے ۔ معلوم ہوا کہ عدویٰ بے اصل ہے ،تو اس فرمانے کا منشا مثلا یہ ہوا کہ ایسے مریض سے تنفر انسا ن کا طبعی امر ہے، آپ کا فضل اس پر حامل
ہے کہ وہ تنفر مضمحل و زائل ہو گیا ۔ دوسرا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا ۔
قول مشہورومذہب جمہور و مشرب منصور کہ دوری و فرار کا حکم اس لئے ہے کہ اگرقرب و اختلاط رہا اور معاز اللہ قضا و قدر سے کچھ مرض اسے بھی حادث ہوگیا تو ابلیس لعین ا سکے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی ۔ اول تو یہ ایک امر باطل کا اعتقاد ہوگا ۔ اسی قدر فساد کیلئے کیا کم تھا پھر متواتر حدیثوں میں سن کر کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صاف فرمایا ہے بیماری اڑ کر نہیں لگتی ۔ یہ وسوسہ دل مں جمنا سخت خطرناک اور ہائل ہوگا ۔ لہذا ضعیف الیقین لوگوں کو اپنا دین بچانے کیلئے دوری بہتر ہے ہاں ،کامل الایمان و ہ کرے جو صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کیا اور کس قدر مبالغہ کے ساتھ کیا ۔ اگر عیاذاً باللہ کچھ حادث ہوتا ان کے خواب میں بھی خیال نہ گزرتا کہ یہ عدوائے باطلہ سے پیدا ہوا ۔ ان کے دلوں میں کوہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع