30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علامہ فتنی مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں
لا تدیموالنظر الی المجذومین۔لانہ اذا ادامہ حقر و تازی بہ المجذوم ۔
اور ایک حدیث میں وفد ثقیف کے ایک ثقفی سے فرمایا : پلٹ جائو تمہاری بیعت ہوگئی،
اس میںمتعدد وجوہ ہیں ۔
٭ انہیں مجلس اقدس میں نہ بلایا کہ حاضرین دیکھ کر حقیر نہ سمجھیں ۔
ٔ٭ حضار میں کسی کو دیکھ کر یہ خیال پیدا نہ ہو کہ ہم ان سے بہتر ہیں ۔خود بینی اس مرض سے
بھی سخت تر بیماری ہے ۔
٭ مریض اہل مجمع کو دیکھ کر غمگین نہ ہو کہ یہ سب ایسے چین میں ہیں اور وہ بلا میں ۔ تو ا سکے
قلب میں تقدیر کی شکایت پیدا ہوگی ۔
٭ حاضرین کا لحاظ خاطر فرمایا کہ عرب بلکہ عرب و عجم جمہور بنی آدم بالطبع ایسے مریض کی
قربت سے برا مانتے ہیں ، نفرت لاتے ہیں ۔
٭ ممکن کہ خاطر مریض کا لحاظ فرمایا ۔ کہ ایسا مریض خصوصاً نو مبتلا خصوصا ذی وجاہت مجمع
میں آتے ہوئے شر ماتا ہے ۔
٭ ممکن کہ مریض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں سے رطوبت نکلتی تھی تو نہ چاہا کہ مصافحہ
فرمائیں ۔
غرضکہ واقعۂ حال محل صدگو نہ احتمال ہوتا ہے ،حجت عام نہیں ہو سکتا۔
ایک حدیث میں بچھونا لپیٹنے کو فرمایا ۔
اقول : ممکن کہ اس لئے فرمایا ہو کہ مریض کے پائوں سے رطوبت نہ ٹپکے
ایک حدیث میں یہ کہ اگر کوئی بیماری اڑ کر لگتی ہو تو جذام ہے ۔ اگر کا لفظ خود بتاتا ہے کہ
اڑ کر لگنا ثابت نہیں ۔
تیسیر میں ہے۔
قولہ ان کان ، دلیل علی ان ہذا الامر غیر محقق عندہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع