30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ ریتی میں ہوتے ہیں جیسے ہرن یعنی صاف شفاف بدن ، ایک اونٹ خارش والا آکر ان میں داخل ہوتا ہے جس سے خارش ہوجاتی ہے ۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
فمن اعدی الاول ، اس پہلے کو کس کی اڑ کر لگی ۔
احمد و مسلم و ابو داؤد و ابن ماجہ کے یہاں حدیث ابن عمر سے ہے ارشاد فرمایا : ذلکم
القدر فمن اجرب الاول یہ تقدیری باتیں ہیں بھلا پہلے کوکس نے کھجلی لگادی ۔
یہ ہی ارشاد ا حادیث عبد اللہ بن مسعود ، عبد اللہ بن عباس ابو امامہ باہلی ، اور عمیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں مروی ہوا حدیث اخیر میں اس توضیح کے ساتھ ہے کہ فرمایا:ـ الم تروا الی البعیر یکون فی الصحراء فیصبح و فی کر کرتہ اوفی مراق بطنہ نکتۃ من جرب
لم تکن قبل ذلک فمن اعدی الاول
کیا دیکھتے نہیں کہ اونٹ جنگل میں ہوتا ہے یعنی الگ تھلگ کہ اس کے پاس کوئی بیمار اونٹ نہیںصبح کو دیکھو تو اس کے بیچ سینے یا پیٹ کی نر م جگہ میں کھجلی کا دانہ موجود ہے بھلا اس پہلے
کو کس کی اڑ کر لگ گئی ۔
حاصل ارشاد یہ ہے کہ قطع تسلسل کیلئے ابتداء بغیر دوسرے سے منتقل ہوئے خود اس میں بیماری پیدا ہونے کا ماننا لازم ہے ۔ تو حجت قاطعہ سے ثابت ہوا کہ بیماری خود بخود بھی حادث ہوجاتی ہے ۔ اور جب یہ مسلم تو دوسرے میں انتقال کے سبب پیدا ہونا محض و ہم علیل و ادعائے
بے دلیل رہا ۔ فتاو ی رضویہ حصہ اول ۹/۲۴۵
اب بتوفیق اللہ تعالی تحقیق حکم سنئے ۔
اقول و باللہ التوفیق :احادیث قسم ثانی تو اپنے افادہ میں صاف صریح ہیں کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتی ۔ کوئی مرض ایک سے دوسرے کی طرف سرایت نہیں کرتا ۔ کوئی تندرست بیمار کے قرب و اختلاط سے بیمارنہیں ہو جاتا ۔ جسے پہلے شروع ہوئی اس کوکس کی اڑ کر لگی، ان متواتر و روشن و ظاہر ارشادات عالی کو سن کر یہ خیال کسی طرح گنجائش نہیں پاتا کہ واقع میں تو بیماری اڑ کر لگتی ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کا وسوسہ اٹھانے کے لئے مطلقا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع