30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
التہلکۃ۔ کے نیچے سمجھنا محض وسوسہ ہے کہ ان میں ہلاک غالب ہے اور سچا ہلاک تو یہ ہے کہ مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
کے ارشاد اقدس کو کہ عین رحمت و خیرخواہی امت ہے معاذ اللہ ، مضرت رساں خیال کیا جائے ۔
تنبیہہ نبیہ: جس طرح طاعون سے بھاگنا حرام ہے اس کے لئے وہاں جانا بھی ناجائز و گناہ ہے ۔ احادیث صحیحہ میں دونوں سے ممانعت فرمائی ۔ پہلے میں تقدیر الہی سے بھاگنا ہے ۔ تو دوسرے میں بلائے الہی سے مقابلہ کرنا ہے ۔ اور اس کے لئے اظہار توکل عذر محض
سفاہت ۔ توکل معارضۂ اسباب کا نام نہیں اس قدر کی ممانعت میں ہر گز گنجائش سخن نہیں ۔
اب رہا یہ کہ جب طاعون سے بھاگنے یا اس کے مقابلہ کی نیت نہ ہو تو شہر طاعون سے نکلنا ، یا دوسری جگہ سے اس میں جانا فی نفسہ کیسا ہے ؟ اس میں ہمارے علماء کی تحقیق یہ ہے کہ
بجائے خود حرام نہیں مگر نظر بہ پیش بینی یہاں دو صورتیں ہیں ۔
ایک یہ کہ انسان کامل الایمان ہے ۔ لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا کی بشاشت
و نورانیت اس کے دل کے اندر سرایت کئے ہوئے ہے ۔ اگر طاعونی شہر میں کسی کام کو جائے اور مبتلا ہو جائے تو اسے یہ پشیمانی عارض نہ ہوگی کہ ناحق آیا کہ بلانے لے لیا ۔ یا کسی کام کو باہر جائے تو یہ خیال نہ کر یگا کہ خوب ہوا جو اس بلاسے نکل آیا ۔ خلاصہ یہ ہے اس کا آنا جانا بالکل ایسا ہو جیسا طاعون نہ ہونے کا زمانہ میں ہوتا تو اسے خالص اجازت ہے۔ اپنے کاموں کو آئے
جائے جو چاہے کرے کہ نہ فی الحال نیت فاسدہ ہے نہ آئندہ فساد فکر کااندیشہ ہے ۔
دوم جو ایسا نہ ہو ، اسے مکروہ ہے کہ اگر چہ فی الحال نیت فاسدہ نہیں کہ حکم حرمت ہو ۔ مگر آئندہ فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ لہذا کراہت ہے ۔
چنانچہ وہ حدیثیں جن میں خود شہر طاعونی سے نکلنے اور اس میں جانے کی ممانعت مروی ہوئی اگر اپنے اطلاق پر رکھی جائیں یعنی نیت فرار و مقابلہ سے مقید نہ کی جائیں تو ا ن کا محمل یہ ہی
صورت کراہت ہے جو ابھی مذکور ہوئی ۔ اور اطلاق اس بنا پر کہ اکثر لوگ اسی قسم کے ہوتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع