30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیمان لیتے ، ایک یہ کہ دشمنوں کے نیزوں سے نہ بھاگنا،
دوسرے یہ کہ طاعون سے نہ بھاگنا ۔
یہاں سے خوب ثابت و ظاہر ہوا کہ مسلمانون کو فرار عن الطاعون کی ترغیب دینے والا ان کا خیر خواہ نہیں بد خواہ ہے ۔ اور طبیبوں ڈاکٹروں کااس میں صبرو استقلال سے منع کرنا خیر و صلاح کے خلاف اورباطل ہے ، اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سارے جہان کیلئے رحمت بناکربھیجا اور مسلمانوں پر بالتخصیص رؤف و رحیم بنایا ۔ اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیلئے ارحم امتی بامتی ابو بکر ، حدیث میں آیا ۔ یعنی جو رافت و رحمت میری امت کے حال پر ابو بکر کو ہے اتنی تمام امت میں کسی کو نہیں ۔ اگر طاعون سے بھاگنے میں بھلائی اور ٹھہرنے میں برائی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کہ اپنی امت پر ماں باپ سے زیادہ مہربان ہیں کیوں ٹھہرنے کی ترغیب دیتے ۔ اور بھاگنے سے اس قدر تاکید شدید کے ساتھ کیوں منع فرماتے ۔ اور صدیق اکبر کہ تمام امت میں سب سے بڑھ کر خیر خواہ امت ہیں کیوں اس سے نہ بھاگنے کا
عہد و پیمان لیتے ۔
معلوم ہوا کہ طاعون سے بھاگنے کی ترغیب دینے والے ہی حقیقۃ امت کے بد خواہ
اور الٹی مت سمجھانے والے ہیں ۔ و العیاذ باللہ تعالیٰ ۔
جیسے کوئی بد عقل، کج فہم ، عورت پڑھنے کی محنت استاذ کی شدت دیکھ کر اپنے بچے کو مکتب سے بھاگ آنے کی ترغیب دے وہ اپنے خیال باطل میں اسے محبت سمجھتی ہے ۔ حالانکہ صریح
دشمنی ہے ۔
ع دوستی بے خرداں دشمنی است۔
بد نصیب وہ بچہ کہ اس کے کہنے میں آجائے اور مہربان باپ کی تاکید و تہدید خیال میں
نہ لائے ۔
بلکہ انصافاً یہ حالت اس مثال سے بھی بد تر ہے ۔ مکتب میں پڑھنے کی محنت سبھی پر ہوتی ہے اور شدت بھی غالب و اکثری ہے ۔ اور جہان طاعون پھوٹے وہاں سب یا اکثر کا مبتلا ہونا کچھ ضروری نہیں ۔ بلکہ باذنہ تعالی محفوظ ہی رہنے والوں کا شمار زائد ہوتا ہے ۔ و لہذا آگ اور زلزلہ پر اس کا قیاس باطل اور و لا تلقوا بایدکم الی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع