30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۲۲۶۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب ما ینہی عن الحلق عند المصیبۃ ، ۱/۱۷۳
الصحیح لمسلم ، کتاب الایمان ، ۱/۷۰
السنن لابن ماجہ ، باب ما جاء فی النہی عن ضرب الخدود الخ، ۱/۱۱۵
السنن للنسائی، کتاب الجنائز، باب الحلق ، ۱/۲۰۶
الجامع الصغیر للسیوطی، ۱/۶۱ ٭ مشکوۃ المصابیح للتبریزی، ۱۷۲۶
کنز العمال للمتقی،۴۲۴۲۱، ۱۵/ ۶۰۹ ٭ منحۃ المعبود للساعاتی، ۷۴۹
۱۲۲۷۔ السنن لابن ماجہ ، باب ما جاء فی النہی عن الاجتماع ، ۱/۱۱۷
المسند لاحمد بن حنبل ، ۲/۲۰۴
۱۰۔ اذان قبر
(۱) اذا ن قبر کا ثبوت
۱۲۲۸۔ عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : لما دفن سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ و سوی علیہ ، سبح النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و سبح الناس معہ طویلا ، ثم کبر و کبر الناس ، ثم قالوا : یا رسول اللہ ! لم سبحت ثم کبرت ؟ قال: لَقَدْ تَضَایَقَ عَلیٰ ہٰذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرَہٗ حَتّی فَرَّجَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ دفن ہو چکے اور قبر درست کر دی گئی فرماتے ہیں ۔ تو حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دیر تک سبحان اللہ سبحان اللہ فرماتے رہے اور صحابہ کرام بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے ۔ پھر حضور اللہ اکبر ، اللہ اکبر فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں فرماتے رہے ۔ ارشاد فرمایا: اس نیک مرد پر اسکی قبر تنگ ہوگئی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے وہ تکلیف اس سے دور کی
اور قبر کشادہ فرمادی ۔
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے میت پر آسانی کیلئے بعددفن کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع