30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۲۰۸۔ عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول اللہ صلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۲۰۷۔ الصحیح لمسلم ، باب عرض مقعدالمیت ، ۲/۳۸۷
المسند لاحمد بن حنبل، ۱/۲۶ ٭ الدر المنثور للسیوطی، ۵/۱۵۷
دلائل النبوۃ للبیہقی، ۳/۴۸ ٭ اتحاف السادۃ للزبیدی، ۵/۲۳
کنز العمال للمتقی، ۲۹۸۷۴، ۱۰/۳۷۶ ٭ فتح الباری للعسقلانی، ۷/۳۰۲۔
۱۲۰۸۔ المعجم الکبیر للطبرانی، ۷/۱۹۷ ٭ فتح الباری للعسقلانی، ۷/۳۰۳
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لَیَسْمَعُوْنَ کَمَا تَسْمَعُوْنَ وَ لٰکِنْ لاَّ یُجِیْبُوْنَ ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جیسا تم سنتے ہو ویسا ہی وہ بھی سنتے ہیں مگر جواب نہیں دیتے ۔
(۱۱) حضور نے قبر کی آواز سنی
۱۲۰۹۔عن عبید من مرزوق رضی اللہ تعالی عنہ قال : کانت امرأۃ تقم
المسجد فما تت ، فلم یعلم بہا النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فمر علی قبرہا فقال ـ مَا ہٰذَا الْقَبْرُ ، قالوا: ام محجن ، قال: ألَّتِی کَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ ، قالو: نعم فصف الناس فصلی علیہا ثم قال : أیُّ الْعَمَلِ وَ جَدْتِ أفْضَلَ؟ قالوا: یا رسول اللہ !
تسمع؟قال : مَا أنْتُمْ بِأسْمَعَ مِنْہَا ، فذکر انہا اجابت ان اقم المسجد ۔
حضرت عبید بن مرزوق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک بی بی مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھیں ان کا انتقال ہو گیا ۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کسی نے خبر نہ دی ۔
حضور ان کی قبر پر گزرے ۔ دریافت فرمایا؟ یہ قبر کیسی ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : ام محجن کی ، فر مایا وہی جو مسجد میں جھاڑودیا کر تی تھی ،عرض کی: ہاں ، حضور نے صف باندھ کر نماز پڑھائی ۔ پھر ان بی بی کی طرف خطاب کرکے فرمایا : تو نے کون سے عمل کوافضل پایا؟ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا وہ سنتی ہے ؟ فرمایا: کچھ تم اس سے زیادہ نہیں سنتے ۔ پھر فرمایا : اس نے جواب دیا کہ میں
مسجد میں جھاڑو دیتی تھی ۔ فتاوی رضویہ ۴/۲۶۹
(۱۲) حضرت فاروق اعظم نے اہل قبور کی آواز سنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع