30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
قبل اس کے صدقہ محتاج کے ہاتھوں میں پہونچے ثواب اس کا میت کو پہونچانا جائز ہے ۔ اس حدیث سے صاف ظاہر ومتبادر کہ کنواں تیار ہوجانے پر یہ الفاظ کہے: ہذہ لام سعد اور جب تک وہ کنواں رہا بحکم ’’ ہذہ لام سعد ‘‘ سب کا ثواب مادر سعد کو پہونچا اور سب کا ایصال منظور تھا ۔ تو قبل تصرف بھی ایصال ثواب حاصل ۔ یہ احادیث کثیرہ سے ثابت ہے ۔ اب جو اسے ناجائز کہے حدیث کی مخالفت کرتا ہے ۔ طرفہ یہ کہ خود امام الطائفہ میاں اسماعیل دہلوی اپنی تقریر ذبیحہ ، میں اس تقریر وہابیہ کو ذبح کر گئے ۔ لکھتے ہیں:اگر شخصے بزے درخانہ پرورش کند تا گوشت او خوب شود او ر ا ذبح کردہ و پختہ فاتحہ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ خواندہ
بخواراند خللے نیست ۔
اگر کوئی شخص اپنے گھر بکرے کی پرورش کرے اور جب وہ خوب فربہ ہو جائے تو اس کو ذبح کر کے گوشت پکا کر سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ دلائے اور لوگوں کو کھلائے تو
اس میں کوئی حرج نہیں ۔
ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ یہ فاتحہ خواندہ بخوارند کیسی ، یہاں ’’ خوارندو فاتحہ خواند ‘‘
کہا ہوتا ۔
بات یہ ہے کہ فاتحہ ایصال ثواب کا نام ہے اور مومن کے نیک عمل پر ایک ثواب اسکی نیت کرتے ہی حاصل ہو جاتا ہے ۔ اور عمل کئے پر دس ہو جاتا ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں ارشاد ہوا ۔ بلکہ متعدد حدیثوں میں فرمایا: نیۃ المؤمن خیر من عملہ ، مسلمان کی نیت اس کے عمل
سے بہتر ہے ۔ فاتحہ میں دو عمل نیک ہوتے ہیں ۔قرأت قرآن ، اطعام طعام۔
طریقہ مروجہ میں ثواب پہونچانے کی دعا اس وقت کرتے ہیں جبکہ کھانا دینے کی نیت کر لی اور کچھ قرآن عظیم پڑھ لیا تو کم سے کم گیارہ ثواب تو اس وقت مل چکے ۔ دس ثواب قرأت
کے اور ایک نیت اطعام کا ۔ کیا انہیں میت کو نہیں پہونچا سکتے ؟
رہا کھانا دینے کا ثواب وہ اگر چہ اس وقت موجود نہیں ۔ تو کیا ثواب پہونچانا شاید
ڈاک یا پارسل میں کسی چیز کا بھیجنا سمجھا ہوگا ۔ کہ جب تک وہ شیٔ موجود نہ ہو کیا بھیجی جائے ۔ حالانکہ اس کا طریقہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع