30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہر مسلمان مسلمان کی قبر کا احترام کرتا تھا ۔ اور علماء صلحاء مشائخ کے مزارات کی ان کی شایان شان عظمت دلوں میں تھی ۔ مگر اب جبکہ بصیرت باطنی کا فقدان ہے اور ظاہری شان و شوکت ہی عظمت کا نشان بن چکا ہے ، علمائے کرام نے علماء و مشایخ کے مزارات پر قبے بنانے کی اجازت دے دی ہے ، بلکہ اسے مستحسن بتایا ہے ۔ علامہ فتنی نیمجمع بحار الانوار میں اور ملا علی قاری نے فرمایا ۔ حتی کہ مولوی اعزاز علی مفتی دار العلوم دیوبند نے
بھی شرح نقایہ ملا علی کے حاشیہ میں بھی ذرا تغیر کے ساتھ لکھا ہے ۔
قد اباح السلف البناء علی قبر المشائخ و العلماء المشھورین لیزورہم
الناس ولیستریحون بالجلوس فیہ ۔
مشائخ اور علماء مشہورین کے مزارات پر عمارات بنانے کو علماء سلف نے جائز بتایا تاکہ
لوگ ان کی زیارت کریں اور اس میں بیٹھنے پر آرام پائیں ۔
نیز اس میں بہت سے فوائد ہیں ،زائرین باطمینان و حضور قلب تلاوت ذکر اذکار کریں گے ۔ جس سے دونوں کو فائدہ ہوگا ، بارش دھوپ سردی سے محفوظ رہیں گے، قبے سے لوگ پہچان جائیں کہ یہ کسی محبوب بارگا ہ کا مزار ہے ، تو حاضر ہوں گے اور فیض حاصل کریں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام متاخرین نے اس کے جواز کی تصریح کی ہے ۔ حتی کہ علامہ علاء الدین ِخصکفی
نے در مختار میں فرمایا۔
لا یرفع علیہ بناء و قیل لا باس بہ و ہو المختار ۔
قبر پر عمارت نہ بنائے ،ایک قول یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور یہی مختار ہے ۔
اور علامہ محمد امین بن عابدین شامی نے رد المحتار میں فرمایا ۔
و فی الاحکام عن جامع الفتاوی و قیل لا یکرہ واذا کان المیت من
المشائخ و العلماء و السادات ۔
احکام میں جامع فتاوی سے ہے کہ ایک قول یہ ہے قبر پر عمارت بنانا مکروہ نہیں
جبکہ میت مشائخ اور علماء اور سادات سے ہو۔
طحطاوی علی المراقی میں در مختار کا قول نقل کر کے بر قرارر کھا۔ یہ دلیل ہے کہ
ان کا بھی مختار یہی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع