30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۵۶۔ مسند الفردوس للدیلمی، ٭ اتحازف السادۃ للزبیدی ،۱۰/۳۷۴
۱۱۵۷۔ المصنف لابن ابی شیبۃ ، ٭
۱۱۵۸۔ السنن لسعید بن منصور ، ٭
سر پر چھڑ کا کرے ۔ ہرگز کوئی مسلمان بلکہ کافر اسے اپنے لئے روا نہ رکھے گا ۔ تو میت مسلمانوں
کیلئے ایسی سخت ایذا کس دل سے روا رکھی جائے گی۔
فتاوی رضویہ ۴/۱۱۰
۳۔ قبر پر قبہ بنانا جائز ہے
۱۱۵۹۔ لما مات الحسن بن الحسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ، ضربت اِمرأتہ القبۃ علی قبرہ سنۃ ثم رفعت فسمعوا صالحا یقول : الا ہل وجدو ا ما
فقدوا فاجابہ اخر بل یئسوا فانقلبوا۔ فتاوی رضویہ ۵/۲۹۰
حضرت حسن مثنی بن حضرت امام حسن ابن حضرت مولی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا جب وصال ہوا تو ان کی اہلیہ حضرت فاطمہ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انکی قبر پر ایک قبہ تانا جو ایک سال تک باقی رہا ۔ پھر اٹھالیا ، تو کسی پکارنے والے کو سنا جو کہتا تھا کیا انہوں نے جو کھویا تھا وہ پالیا
دوسرے نے جواب دیا نہیں بلکہ مایوس ہو کر لو ٹ گئے ۔
علمائے کرام فرماتے ہیں : - یہ قبہ احباب کے جمع ہونے اور ان کی قبر پر تلاوت قرآن و فاتحہ پڑھنے کیلئے تھا عبث و نا جائز نہ تھا کہ اہل بیت اطہار ایسا کام کبھی نہیں کرتے خصوصاً صحابہ
کی موجودگی میں۔
اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ خود آپ کی بیوی ایک سال تک اس قبہ میں رہیں، ہو سکتا ہے اس قبہ کے دو حصے ہوں ایک میں آپ رہتی ہوں اور دوسرے حصہ میں احباب جمع ہو کر فاتحہ پڑھتے ہوں۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے ۔ایک یہ کہ بزرگوں کے مزارات پر زائرین کی آسانی کیلئے گنبد، عمارت بنانا جائز ہے ۔دوسرے یہ کہ وہاں مجاوروں کا بیٹھنا درست ہے کہ
یہ دونوں کام اہل بیت نبوت نے صحابہ کرام کی موجودگی میں کئے کسی نے منع نہ کیا ، لہذا یہ دونوں عمل سنت صحابہ و اہل بیت سے ثابت ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع