30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)قبر پر چلنے سے میت کو اذیت ہوتی ہے
۱۱۵۶۔عن أم المؤمنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت: قال
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: ألْمَیِّتُ یُوْذِیْہِ فِی قَبْرِہٖ مَا یُوْذِیْہٖ فِی بَیْتِہٖ ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میت کو جس بات سے گھر میں ایذا ہوتی ہے قبر میں بھی ایذا پاتا
ہے ۔
۱۱۵۷۔عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال :اذی المؤمن فی موتہ
کاذاہ فی حیاتہ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مسلمان کو بعد موت ایذا
دینی ایسی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہونچانی ۔
فتاوی رضویہ ۴/۲۶۱
۱۱۵۸۔عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سئل عن وضع القدم علی
القبر فقال : کما أکرہ أذی المؤمن فی حیاتہ فاِنی أکرہ اذا ہ بعد موتہ ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قبر پر پائوں رکھنے کا مسئلہ پوچھا گیا تو
فرمایا : مجھے جس طرح مسلمان زندہ کو ایذا نا پسند ہے یونہی مردہ کی ۔
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
ان تمام صحیح حدیثوں اور ا نکے سوا اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے کہ قبر پربیٹھنا یا پائوں رکھنا بلکہ صرف اس سے تکیہ لگانے سے میت کو ایذا ہوتی ہے ۔ اور مردہ مسلمان کو ایذا ایسی ہے جیسے زندہ مسلمان کو ایذا دینا تو اس پر پانی بہانا کس قدر باعث ایذا ہوگا ۔ جب زندہ مردہ اس میں برابر ہیں تو کیا کوئی شخص روا رکھے گا کہ پاخانہ کے بدر وکا پانی اس پر بہایا جائے۔یا لوگ اس کے سینے اور منہ پر پیشاب کیا کریں ۔ یا دھوبی ناپاک کپڑے دھو کر وہ پانی اس کے منہ پر اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع