30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوی رضویہ ۱۲/۸۳
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ یمامہ والوں سے جنگ کے ایام میں مجھے امیر المؤمنین سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلایا ۔اس وقت سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی انکے ساتھ تھے۔فرمایا: حضرت عمر میرے پاس آئے اور کہا: جنگ یمامہ میں قرآن کریم کے کتنے ہی قاری شہید ہوگئے ہیںاور مجھے خدشہ ہے کہ مختلف مقامات پر قاریوں کے شہید ہو جانے کے باعث قرآن مجید کا اکثر حصہ جاتا رہے گا ۔ لہذا میری رائے ہے کہ آپ قرآن کریم کے جمع کرنے کا حکم صادر فرمادیں ۔میں نے ان سے کہا :میں وہ کام کیسے کروں جسکو خود حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہیں کیا ؟حضرت عمر نے اس پر کہا:خدا کی قسم ! کام توپھر بھی اچھا ہے۔چنانچہ حضرت عمر مجھ سے اس بارے میں بحث کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کیلئے میرا سینہ کھولدیا اور میں حضرت عمر کی رائے سے متفق ہوگیا ۔حضرت زیدبن ثابت کا بیان ہے کہ حضرت صدیق اکبر نے فرمایا:تم نو جوان آدمی ہو اور صاحب عقل و دانش بھی نیز تمہاری قرآن فہمی کے بارے میں مجھے پورا اعتماد ہے ۔ اور تم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کاتب وحی بھی رہے ہو ۔لہذا مکمل کوشش کے ساتھ قرآن کریم جمع کردو۔خدا کی قسم ! اگر مجھے پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر نے کا حکم دیا جاتا تو اسے اس کام سے زیادہ بھاری نہ سمجھتا ۔میں عرض کرنے لگا: آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہیں کیا ۔آپنے فرمایا:خدا کی قسم ! پھر بھی یہ کام تو اچھا ہے ، پھر برابر حضرت صدیق اکبر مجھ سے بحث کرتے رہے یہا ں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی اس طرح کھول دیا جس طرح حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر کیلئے کھولدیا تھا ۔چنانچہ میں نے قرآن کریم کو کجھور کے پتوں ، پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کر کے جمع کیا یہاں تک کہ سورئہ توبہ کی آ خری آیت حضرت ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ملی اور کسی سے دستیاب نہ ہوئی ۔ یعنی ’’ لقدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مَّنْ أنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ
مَاعَنِتُّمْ ألْآیَہ‘‘پھر یہ جمع کیا ہوا نسخہ حضرت ابو بکر صدیق کے پاس رہا۔ جب ان کا وصال ہو
گیا تو حضرت عمر کے پاس پھر حضرت حفصہ بنت عمر کی تحویل میں رہا۔
]۱[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
دیکھو !زید بن ثابت نے صدیق اکبراور صدیق اکبر نے فاروق اعظم پر اعتراض کیا تو ان حضرات نے یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع