30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وِزْرُ مَن عَمِلَ بِہَا لاَ یُنْقَصُ مِن أوْزَارِ مَن عَمِلَ بِہَا شَیْئاً ۔
فتاوی رضویہ ۲/۴۹۲
حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے میری کسی سنت کو زندہ کیا پھر لوگ اس پر عمل پیرا ہوئے ،تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر اسکو ثواب ملے گا، اور ان لوگوںکے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی ۔اور جس نے خلاف سنت نا پسندیدہ راستہ ایجاد کیا تو جتنے لوگ اس پر عمل کر کے گنہگار
ہوں گے سب کے گناہ اس پر اور انکے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔۱۲م
۶۴۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قال رسول اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۶۲۔ الجامع للترمذی، العلم ، ۲/۹۲، ٭ الترغیب و الترہیب للمنذری ، ۱۵/ ۹۱
مشکوۃ المصابیح، الاعتصام بالکتاب و السنۃ، ۱/۱۸۴
۶۳۔ السن لابن ماجہ المقدمۃ ، ۱/۱۹ ٭
۶۴۔ الترغیب و الترہیب للمنذری، ۱/۸۰ ٭ الجامع الصغیر للسیوطی، ۲/۵۲۲
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِی عِنْدَ فَسَادِ اُمَّتِی فَلہٗ أجْرُ مِائۃِ شَہِیْدٍ ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو فساد امت کے وقت میری سنت مضبوط تھامے اسے سو
شہیدوںکا ثواب ملے۔ فتاوی رضویہ ۲/۴۹۳
]۶[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
ظاہر ہے کہ زندہ وہی سنت کی جائے گی جو مردہ ہوگئی ہو، اور سنت مردہ جبھی ہوگی کہ اسکے خلاف رواج پڑ جائے ۔احیاء سنت علماء کا تو خاص فرض منصبی ہے اور جس مسلمان سے ممکن ہو اسکے لئے حکم عام ہے ۔ ہر شہر کے مسلمانوں کو چاہیئے کہ اپنے شہر یا کم از کم اپنی مساجد میں اس سنت (اذان بیرون مسجد )کو زندہ کریں اور سو سو شہیدوں کا ثواب لیں ۔اس پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ کیا تم سے پہلے عالم نہ تھے۔یوںہو تو کوئی سنت زندہ ہی نہ کرسکیںگے۔ امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کنتی سنتیں زندہ فرمائیں ۔ اس پر انکی مدح ہوئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع