30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
التمہید لابن عبد البر ، ۱/۱۵۰ ٭ الحاوی للفتاوی للسیوطی، ۱/۴۷۱
الفقیہ و المتفقہ للخطیب، ۱/۸۹ ٭ الشریعۃ للآجری، ۱/۵۱
وَ زَادَ بَعَضٌ۔ وَ اِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہُ کَمَا حَرَّمَ اللّٰہُ ۔
ٍ فتاوی رضویہ ۹/۱۱۹
حضرت مقداد بن معدی کرب کندی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار! بیشک مجھے قرآن کریم دیا گیا اور اسکے مثل بھی (یعنی حدیث شریف)خبردار! قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا شخص اپنی مسہری پر تکیہ لگا کر کہے: صرف قرآن کو تھام لو، اس میں جو حلال پائو اسے حلال جانو اور جو حرام پائو اسے حرام سمجھو، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حرام فرمایا ہوا ویسا ہی حرام ہے جیسا اللہ تعالیٰ کا حرام فرمایا ہوا،دیکھو ! نہ تمہارے لئے پالتو گدھا حلال ہے اور نہ کیلے والا درندہ جانور، اور نہ ذمی کافر کی گمشد ہ چیز ۔ ہاں جب اس چیز کا مالک اس سے لا پرواہ ہوجائے ،او ر سنو! جو کسی کے پاس مہمان بن کر جائے تو ان پر اسکی مہمانی لازم ہے ۔ اگر مہمانداری نہ کریں تو وہ اپنی مہمانی کی
مقدار ان سے وصول کرے ۔۱۲م
۵۳۔ عن العرباض بن ساریۃرضی اللہ تعالیٰ عنہ قال :قال رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: أیَحْسِبُ أحَدُکُمْ مُتَّکِئاً عَلیَ أرِیْکَتِہٖ بِظَنِّ أنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحَرِّمْ شَیْئاً إلّا مَا فِی ہٰذَا الْقُرْآنِ۔ ألاَ إنِّی وَ اللّٰہِ قَدْأمَرْتُ وَوَ عَظْتُ وَ نَہِیْتُ عَنْ أشْیَائَ اِنَّہَا
کَمَثلِ الْقُرْآ نِ أوْأکْثَرَ ۔ فتاوی رضویہ ۹/۱۱۹
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم میں کوئی اپنے تخت پر تکیہ لگائے گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس یہ ہی چیزیں حرام کی ہیں جو قرآن میں لکھی ہیں ، سن لو !خدا کی قسم! میں نے حکم دئے اور نصیحتیں فرمائیں اور بہت چیزوں سے منع فرمایا کہ وہ قرآن کی حرام فرمائی اشیاء کے برابر بلکہ
بیشتر ہیں۔
۵۴۔ عن علقمۃ عن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاشْمَاتِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع