30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برابر حضور کی خدمت میں ہوں ۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے جیسے تم نے اسکے نبی کی حفاظت کی ۔ پھر فرمایا : تم دیکھ رہے ہو کہ ہم لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں ۔ پھر فرمایا : کیا تم کسی کو دیکھ رہے ہو ۔ میں نے عرض کیا : ہاں یہ ایک سوار ہے ۔ پھر میں نے کہا : یہ ایک اور سوارہے ۔ یہاں تک کہ ہم سات سوار جمع ہوگئے ۔ پھر آپ راستہ سے الگ ہو کر ایک جگہ آرام فرمانے کی غرض سے زمین پر لیٹ گئے اور فرمایا : تم لوگ ہماری نماز کا خیال رکھنا ۔ پھر سب لوگوں کی آنکھ لگ گئی اور سب سے پہلے بیدار ہونے والے خود حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تھے ۔ دھوپ او پر آگئی تھی ۔ ہم لوگ گھبرا کر بیدار ہوئے ۔ فرمایا : سوار ہو جائو اور پھر سب چلنے لگے ۔ یہاں تک کہ جب دھوپ خوب اوپر آگئی تو سواری سے اترے ۔ وضو کا لوٹا منگوایا جو میرے پاس تھا ۔ اس میں تھوڑا پانی تھا ۔ آپ نے خفیف وضو فرمایا کہ پانی اس میں سے بھی کچھ بچ گیا ۔ پھر فرمایا : اس پانی کو باقی رکھنا اس سے ایک عجیب چیز کا ظہور ہوگا ۔ حضرت بلال نے اذان پڑھی اور حضور نے دو رکعت نماز ادا کی ۔ پھر دو فرض حسب معمول جماعت سے اد ا فرمائے ۔ پھر ہم سب سوار ہو کر چلنے لگے اور آپس میںگفتگو کر تے جاتے تھے کہ ہمارے اس قصور یعنی نماز کے قضا ہوجانے کی کیا تلافی ہوگی ۔ اس پر حضور نے فرمایا : کیا میری سیرت طیبہ میں تمہارے لئے نمونہ عمل نہیں ۔ سنو ! سوتے رہ جانے میں نماز قضا ہو جانا قصور نہیں ۔ قصور تو یہ ہے کہ تم بیداری میں نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ نماز کا وقت گز ر جائے اور دوسرا وقت آئے ۔ یاد رکھو ۔جب کبھی ایسا اتفاق ہو تو بیدار ہو کر نماز پڑھ لیا کرنا ۔ پھر فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ باقی لوگوں نے جو ہم سے جدا ہوگئے ہیں کیا کہا ہوگا ۔ سنو ، جب لوگو ں نے صبح کی تو اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو نہ پایا۔ صدیق اکبر اور فاروق اعظم
نے کہا : حضور تمہارے پیچھے ہو نگے ۔آپ تمہیں پیچھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے ۔ بعض نے کہا : حضور تم سے آگے ہیں ۔ لیکن وہ لوگ ابو بکر و عمر کی بات مان لیتے تو سیدھی راہ پاتے ۔ خلاصہ کلام یہ کہ ہماری ان حضرات سے ملاقات ٹھیک دو پہر کیوقت ہوئی جب دھوپ خوب تیز ہوگئی تھی ،۔ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم تو اب پیا س کی وجہ سے قریب المرگ ہیں ۔ آپ نے فرمایا ؛ فکر نہ کر و ہمارا چھوٹا پیالہ لائو ۔ پھر آپ نے وہ لوٹا منگوایا جس میں کچھ پانی محفوظ تھا ۔ وہ پانی اس کٹورے میں انڈیلا گیا اور حضرت ابو قتادہ لوگوں کو پانی پلانے لگے ۔ لوگوں نے دیکھا کہ پانی تو ایک پیالہ ہے ۔ یہ دیکھ کر صحابہ کرام ہجوم کی صورت میں جھک گئے ۔ آپ نے فرمایا : اطمینان سے رہو ۔ تم سب لوگ سیراب ہوجائوگے ۔ یہ سن کر سب اطمینان سے پانی لینے لگے ۔ حضور پانی ڈالتے اور میں پلاتا جاتایہاں تک کہ کوئی باقی نہ رہا ۔ صرف میں اور حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باقی تھے ۔ حضور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع