30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رکعتین ثم صلی الغداۃ فصنع کما کان یصنع کل یوم ، قال : و رکب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و رکبنا معہ ، قال : فجعل بعضنا یہمس الی بعض ، ما کفارۃ ما صنعنا تبفریطنا فی صلوتنا ثم قال : أمَا لَکُمْ فِی اُسْوَۃٌ ؟ ثم قال : أمَا اِنَّہٗ لَیْسَ فِی النَّوْمِ تَفْرِیْطٌ ، اِنَّمَا التَّفْرِیْطُ عَلیٰ مَنْ لَمْ یُصَلِّ الصَّلٰوۃَ حَتّی یَجِیْیَٔ وَقْتُ الصَّلٰوۃُ الْاُخْرٰی فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَیُصَلِّہَا حِیْنَ یَنْتَبِہُ لَہَا ، فَاِذَا کَانَ الْغَدُ فَلْیُصَلِّہَا عِنْدَ وَقْتِہَا،ثم قال: مَاتَرَوْنَ النَّاسَ صَنَعُوْا، قال :ثم قال : اصبح الناس فقدوا نبیہم فقال ابو بکر و عمر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بعد کم لم یکن یخلفکم و قال الناس : ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بین ایدیکم فان یطیعوا ابا بکر و عمر یرشدوا ، قال : فانتہینا الی الناس حین امتد النہار وحما کل شیء وہم یقولون : یا رسول اللہ ! ہلکنا عطشنا ،فقال : لأ ہلک علیکم ، ثم قال : اطلقوا لی عمری ، قال : و دعا بالمیضاۃ فجعل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یصب ابو قتادۃ یسقیہم فلم یعد ان رأی الناس ما فی المیضاۃ تکابوا علیہا ، فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : أحسنو الملاء کلکم سیروی ، قال ففعلوا فجعل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یصب أسقیہم حتی ما بقی غیر و غیر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : ثم صب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال: لی : اِشرب! فقلت : لا اشرب حتی تشرب یا رسول اللہ ! قال : ان ساقی القوم اخری ہم شربا ، قال : فشربت و شرب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، قال : فاتی الناس المآء جامین روآئ۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا : تم آج زوال کے بعد اور ساری رات چلتے رہو گے یہاں تک کہ انشاء اللہ تعالیٰ کل صبح پانی کے مقام پر پہونچو گے ۔ لہذا لوگوں نے ا س طرح سفر کیا کہ کوئی کسی کی طرف متوجہ نہ ہوتا تھا ۔ حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں : حضور نے بھی لگاتار سفر فرمایا یہاں تک کہ آدھی رات ہوگئی ۔ میں آپ کے پہلو میں تھا ۔ میں نے دیکھا کہ حضو ر کو غنودگی نے آلیا اور سواری سے ایک جانب جھکنے لگے ۔ میں نے بڑھ کر سہارا دیا لیکن میں نے حضور کو بیدار نہیں کیا
۔ پھر حضور سنبھل کرسواری پر تشریف فرماہو ئے یہاں تک کہ کافی رات گزر گئی تو پھر آپ سواری سے ایک جانب جھکنے لگے اس مرتبہ بھی میں نے سہارا دیا لیکن آپ کو اس بار بھی نہیں جگایا اور آپ سواری پر سیدھے ہو گئے ۔ پھر چلتے رہے یہاں تک کہ سحر کا وقت آخر ہو گیا ۔ پھر اس بار پہلی دونوں مرتبہ کے مقابلے میں زیادہ جھک گئے یہاں تک کہ سواری سے نیچے آنے کے قریب تھے کہ میں نے بڑھ کر روک دیا ۔ آپ نے سر اٹھا کر فرمایا : کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : ابو قتادہ ، فرمایا : کب سے ہمارے ساتھ چل رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع