30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاتھوں میں ہوں گے اور انکی اس رگ سے خون بہہ رہا ہوگا جو بوقت ذبح کاٹی جاتی ہے ۔ اللہ تعا لیٰ کے حضور عرض کریں گے :اے ہمارے رب ! ہمیں وہ چیز عطا فرما جسکا تونے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے وعدہ فرمایا ہے ۔ ہمیں روز قیامت ذلت سے محفوظ فرما۔ بلا شبہ تو وعدہ کا خلاف نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: میرے بندوں نے سچ کہا۔ ان کو سفید نہر میں غسل دو ۔ تو وہ اس نہر سے صاف
شفاف اور چمکدار ہوکر نکلیں گے اور جنت [میں حسب خواہش چلے جائیں گے اور وہاں کی
نعمتوں سے مستفید ہوں گے ۔
اور ابن جوزی نے اس کے موضوع ہونے کی وجہ یہ بتائی کہ اس کی تمام سندوں کا مرکز ابو عقال ہے جسکا نام ہلال بن زید بن یسارہے۔ ابن حبا ن نے کہا : یہ حضرت انس سے ایسی روایات موضوعہ نقل کرتا ہے جو حضرت انس نے با لکل بیان نہیں کیں ۔ امام ذہبی نے میزان میں کہا: یہ باطل ہے ۔
اس پر علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا : یہ روایات فضائل اعمال سے متعلق ہیں ۔ اس میں اللہ کی راہ میں جہاد کی ترغیب اور شوق دلایا گیا ہے ۔ اس میں ایسی کوئی بات نہیں جسے عقل و شرع محال قرار دیتی ہو ۔ لہذا محض اس لئے اسے باطل قرار دینا کہ اس کا راوی ابو عقال ہے قابل حجت نہیں ۔ اور امام احمد احادیث احکام میں تو نہیں البتہ احادیث فضائل میں تسامح
سے کام لیتے ہیں ۔ ان کا یہ طریقہ معروف و مشہور ہے۔
اب امام احمد رضا قدس سرہ کا فیصلہ سنئے ۔ فرماتے ہیں :
یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ یہ ہی طریقہ علامہ ابن حجر نے عمامہ والی
حدیث میں کیوں نہیں اختیار فرمایا حالانکہ یہ حدیث بھی فضائل اعمال سے متعلق ہے ۔ اور اس سے بارگاہ الہی کے ادب پر شوق دلایا گیا ہے ۔ اس میں بھی کوئی ایسی بات نہیں جسے شرع و عقل محال قرار دیتی ہو۔ بلکہ اس میں کوئی راوی بھی ایسا نہیں جسے ابو عقال کی طرح موضوعات کا راوی قرار دیا گیا ہو ۔ تو اس روایت پر بطلا ن بلکہ موضوع ہونے کا حکم محض اس بنا پرکہ بعض روایات کا ایسے راویوں سے ہونا جن کو حافظ ابن حجر نہیں جانتے یا فلاں فلاں نے ان کو ذکر نہیں
کیا کیسے درست ہو سکتا ہے ۔
علاوہ ازیں میرے نزدیک ابن النجار کے بعض رواۃ میں سے مہدی بن میمون کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع