30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں نے اس کتاب میں پوست چھوڑ کر خالص مغز لیا ہے اور ایسی حدیث سے بچایا ہے جسے تنہا کسی وضاع یا کذاب نے روایت کیا ۔ اس حدیث کی بابت علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے لسان المیزان میں فرمایا کہ حدیث منکر بلکہ موضوع ہے ۔ وجہ یہ بتائی کہ اس حدیث کے
رواۃ میں عبا س بن کثیر ، ابو بشر بن سیار ، محمد ابن مہدی مروزی اور مہدی بن میمون مجہول ہیں ۔
اقول : اللہ تعالیٰ حافظ ابن حجر پر رحم فرمائے ۔ انہوں نے اس حدیث کو موضوع کیسے قرار دیدیا ۔ جبکہ اس روایت میں نہ کوئی ایسی چیز ہے جسے عقل و شرع محال جانے اور نہ ہی اسکی سند میں کوئی وضاع ،کذاب اور متہم ہے ۔ محض راوی کے مجہول ہونے سے اس حدیث کو چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ فضائل میں قابل استدلال ہی نہ رہے ۔ موضوع کہنا تو بہت بڑی بات ہے ۔ اس طرح کی روایات کے بارے میں خود حافظ ابن حجر عسقلانی نے القول
المسدد میں بحث کی ہے ۔
حافظ ابو الفرج ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا کہ ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ـجس نے عشا ء کے بعد شعر کا ایک بیت پڑھا اسکی اس رات کی نماز قبول نہ ہوگی ۔ وجہ یہ بتائی کہ اس حدیث کی سند میں راوی قزعہ بن سوید کے بارے میں امام احمد نے کہا : یہ مضطرب الحدیث ہے ۔ ابن حبان نے کہا: یہ کثیر الخطا اور فاحش الوہم ہے ۔ آخر میں ابن جوزی نے کہا : جب اسکی روایت میں علتیں اس
قدر کثیر ہوگئیں تو اسکی روایت سے استدلال ساقط ہوگیا ۔
اس پر علامہ حافظ ابن حجر نے فرمایا : یہاں پر کوئی ایسی چیز نہیں جو اس حدیث کے
موضوع ہونے کا فیصلہ کر تی ہو۔
نیز ابن جوزی نے موضوعات میں یہ حدیث بھی ذکر کی کہ:
حضورسید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عسقلان ان خوش نصیب شہروں میں سے ایک ہے جن سے روز قیامت ستر ہزار ایسے افراد اٹھائے جایئں گے جنکا حساب نہیں ہوگا ۔ اور اس میں پچاس ہزار شہداء اٹھاے جائیں گے جو وفد کی صورت میں صف بستہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوںگے حالانکہ ان کے سر کٹے ہوئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع